رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے ملک میں نئے صوبے بنانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وسائل کی مساوی تقسیم اور بہتر حکمرانی کے لیے چھوٹے انتظامی صوبے ضروری ہیں۔
ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیرافضل مروت نے کہا کہ ملک میں نئے صوبے بننے چاہئیں تاکہ وسائل کی تقسیم زیادہ منصفانہ انداز میں ہوسکے اورعوام کوان کے حقوق ان کی دہلیز پرمیسرآئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بڑے صوبوں کے بجائے چھوٹے انتظامی یونٹس قائم کرنے سے حکومتی نظام زیادہ مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبے بننے کی صورت میں مقامی لوگوں کو اپنے علاقوں کی حکمرانی میں زیادہ مؤثر کردارادا کرنے کا موقع ملے گا مقامی سطح پرانتظامی اختیارات منتقل ہونے سے عوامی مسائل کے حل میں بھی تیزی آسکتی ہے۔
🚨 شیر افضل خان مروت کا تمام پی ٹی آئی کارکنان اور پاکستانیوں کے نام اہم ترین پیغام۔۔!!
“خان سے میں نے ہمیشہ احتجاجی ذمہ داریوں کی بات کی، کبھی وزارتِ اعلیٰ یا وزارت نہیں مانگی۔ 8 فروری تک کسی سے کوئی اختلاف نہیں تھا، لیکن جب قیادت باہر آئی تو سب سے پہلے احتجاج کے معاملات پر… pic.twitter.com/mjWI18gxFp
— Sher Afzal Khan Marwat (@sherafzalmarwat) August 9, 2026
شیر افضل مروت نے کہا کہ چھوٹے انتظامی صوبوں کے قیام کی تحریک کو سپورٹ کرنا چاہیے، کیونکہ اس سے نہ صرف وسائل کی مساوی تقسیم ممکن ہوگی بلکہ دور دراز علاقوں کے عوام کو بھی حکومتی معاملات میں زیادہ نمائندگی مل سکے گی۔
خیبر پختونخوا کی تحصیل غازی صوبہ پنجاب میں شامل؟ حقیقت کیا ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں انتظامی ڈھانچے کو عوامی ضروریات کے مطابق بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق نئے صوبوں کا قیام انتظامی امورکو مؤثر بنانے اور مقامی آبادی کو بااختیار کرنے کی سمت ایک اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے۔
