پاکستان نے غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد کی جانب مثبت پیشرفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے امریکا، مصر، قطر اور ترکیہ کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا ہے۔
غزہ پیس آف بورڈ نے حماس کو غیر مسلح ہونے پر راضی کر لیا ہے تاہم اس معاہدے کے مطابق پہلے ہتھیار کون ڈالے گا، اس حوالے سے چار صفحات پر مشتمل روڈ میپ سامنے آیا ہے ، جس میں سکیورٹی، انتظامی ڈھانچے اور فوجی انخلا سے متعلق مرحلہ وار حکمت عملی تجویز کی گئی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کے مطابق پاکستان نے غزہ امن منصوبے کے تمام وعدوں پر مکمل عمل درآمد کی امید ظاہر کی۔ اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے ناقابلِ تنسیخ حق کی حمایت کا اعادہ کیا۔
ترجمان کے مطابق پاکستان نے 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیتے ہوئے القدس الشریف کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت قرار دینے کے مؤقف کا اعادہ کیا۔
پاکستان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کیلئے فریقین سے رابطے میں ہے ،ترجمان دفتر خارجہ
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق 4 صفحات پر مشتمل اس دستاویز میں حماس کے غیر مسلح ہونے، قابض اسرائیلی افواج کی بتدریج واپسی اور نئی فلسطینی عبوری انتظامیہ کے قیام کو ایک دوسرے سے منسلک کیا گیا ہے تاکہ کوئی بھی مرحلہ یکطرفہ طور پر مکمل نہ ہو۔
منصوبے کے مطابق ہر فریق کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی، جس کے بعد ہی اگلے مرحلے پر پیش رفت ممکن ہو گی۔
اس حوالے سے امریکی حکام نے کہا ہے کہ اس روڈ میپ کی بنیاد ’تصدیق پہلے‘ کے اصول پر رکھی گئی ہے، جس کے تحت کسی بھی پیشرفت کو آزادانہ جانچ کے بعد ہی تسلیم کیا جائے گا اور کسی بھی فریق پر اندھا اعتماد نہیں کیا جائے گا۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں غزہ کے چھوٹے مسلح گروہوں سے ہتھیار واپس لیے جائیں گے، جس کے بعد حماس اپنے عسکری ڈھانچے کو مرحلہ وار ختم کرے گی۔ اس عمل میں زیرزمین سرنگوں، اسلحہ کے ذخائر اور ہتھیار تیار کرنے والی تنصیبات کا خاتمہ بھی شامل ہو گا۔
مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے ، دفتر خارجہ
مجوزہ منصوبے کے مطابق تمام مراحل کی تکمیل کے بعد غزہ میں قائم ہونے والی فلسطینی عبوری اتھارٹی کو اسلحہ پر مکمل اختیار حاصل ہو گا، جبکہ بین الاقوامی استحکام فورس عبوری عرصے میں امن و امان برقرار رکھنے میں معاونت کرے گی۔
دوسری جانب ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ معاہدہ غزہ میں نئی فلسطینی حکومت کے قیام کی جانب اہم پیشرفت ہے، جس پر مرحلہ وار اور منظم انداز میں عمل درآمد کیا جائے گا۔ بین الاقوامی استحکام فورس فلسطینی پولیس کے تعاون سے غزہ کا انتظام سنبھالے گی۔
