اردن میں 2 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد امریکی فوج نے ٹرمپ کے حکم پر ایران کیخلاف نئے حملے شروع کرتے ہوئے شدید بمباری کی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ امریکی صدر کی ہدایت پر ایران کے خلاف نئے فضائی حملے شروع کر دیے۔ یہ حملے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرات سے محفوظ بنانے، ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنے اور گزشتہ رات اردن میں امریکی فوجیوں پر حملے کرنے والی ایرانی فورسز کو فوری سزا دینے کے مقصد سے کیے گئے۔
سینٹکام نے مزید کہا کہ امریکی فوج نے اسلامی انقلابی گارڈ کی ان فورسز کو بھی نشانہ بنایا جن پر 17 جولائی کو اردن میں تعینات امریکی فوجیوں پر حملوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
امریکا کو ایسا سبق سکھایا جائے گا جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکے گا، ایرانی سپریم لیڈر
سینٹکام کے مطابق اس وقت 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی مشرقِ وسطیٰ میں مختلف مقامات پر تعینات ہیں، اور وہ مکمل چوکسی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دینے، کارروائی کے لیے تیار رہنے اور ہر ممکن ردِعمل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی فوج نے تازہ کارروائی میں سیرک کے قریب حملے کیے، اور حاجی آباد شہر کے قریب علاقے کو نشانہ بنایا۔ ایرانی شہر بندر عباس اور جزیرہ قشم میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ تاہم کسی جانی نقصانات کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملوں کے بعد ایران کی پاسداران انقلاب نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے کویت میں موجود دو امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
سرکاری ٹی وی پر جاری ایرانی فوج کے بیان میں کہا گیا کہ کیمپ الادیری پر ڈرون سے اسلحہ ڈپو اور علی السالم ائیر بیس پر پیٹریاٹ دفاعی نظام کے ریڈار نشانہ بنائے گئے۔
