یورپی کمیشن کی تازہ جی ایس پی پلس رپورٹ میں پاکستان کو بدستور اس اسکیم سے سب سے زیادہ مستفید ہونے والا ملک قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2024 کے دوران پاکستان کی 7.5 ارب یورو مالیت کی برآمدات جی ایس پی پلس کی تجارتی رعایتوں سے مستفید رہیں، جس کے نتیجے میں ملک کو 732 ملین یورو کی ٹیرف بچت حاصل ہوئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے جی ایس پی پلس رعایتوں سے استفادے کی شرح 95.1 فیصد تک پہنچا دی جبکہ 2024 میں یورپی یونین نے پاکستان کی مجموعی برآمدات کا 28 فیصد درآمد کیا، پاکستانی ملبوسات، ٹیکسٹائل اور دیگر برآمدی مصنوعات نے ان رعایتوں سے نمایاں فائدہ اٹھایا۔
یورپی کمیشن کے مطابق پاکستان نے جی ایس پی پلس سے متعلق تمام 27 بین الاقوامی کنونشنز کی توثیق برقرار رکھی اور یورپی یونین کے مانیٹرنگ عمل کے ساتھ مسلسل اور مؤثر تعاون جاری رکھا۔
رپورٹ میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو عالمی ‘اے اسٹیٹس’ ملنے کو اہم ادارہ جاتی پیش رفت قرار دیا گیا جبکہ قومی کمیشن برائے اقلیت کے قیام سے متعلق قانون سازی کو اقلیتوں کے تحفظ کی جانب مثبت قدم قرار دیا گیا۔
یورپی کمیشن نے انسداد تشدد قانون کے عملی قواعد، متعلقہ اداروں کی تربیت، جیل اصلاحات، خواتین کے تحفظ، گھریلو تشدد کے تدارک، کم عمری کی شادیوں کے خلاف قانون سازی، محنت کشوں کے حقوق، جبری اور بچوں سے مشقت کے خاتمے کے اقدامات کو بھی قابلِ ذکر پیش رفت قرار دیا۔
ساؤتھ ایئر کا کراچی سے ڈومیسٹک پروازوں کا آغاز، متعدد نئے روٹس متعارف
رپورٹ میں پاکستان کی موسمیاتی پالیسی، کاربن مارکیٹ، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، انسداد منشیات سے متعلق نئے قوانین اور ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ نظام کو بھی مثبت اصلاحات میں شامل کیا گیا۔
یورپی کمیشن نے پاکستان کے لیے 400 ملین یورو کے ترقیاتی اور اصلاحاتی تعاون کے اپنے عزم کا بھی اعادہ کیا ہے۔
