پی آئی اے کی نجکاری سے حکومت کو کم از کم 55 ارب روپے ملیں گے۔
پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق دستاویزات کے مطابق قومی ایئرلائن کے کل اثاثوں کی مالیت 191 ارب 53 کروڑ 40 لاکھ روپے جبکہ مجموعی واجبات 182 ارب 43 کروڑ روپے ہیں۔ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ پی آئی اے سی ایل کے نیٹ اثاثوں اور ایکویٹی کی مالیت 9 ارب 10 کروڑ روپے بنتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجکاری ٹرانزیکشن کے تحت 14 ارب 26 کروڑ روپے مالیت کی 11 جائیدادیں خریدار کو پیش کی گئی ہیں جبکہ روزویلٹ ہوٹل نیویارک، اسکرائب ہوٹل پیرس سمیت 33 اسٹریٹجک اہمیت کی حامل جائیدادیں حکومت اپنے پاس رکھے گی اور یہ پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے تحت حکومتی ملکیت رہیں گی۔
حکومت کو پی آئی اے کے 100 فیصد ایکویٹی اسٹیک کی فروخت سے کم از کم 55 ارب روپے حاصل ہوں گے۔ پی آئی اے کے ملازمین سے متعلق واجبات کا حجم 30 ارب 34 کروڑ روپے سے زائد ہے جبکہ نجکاری سے ایف بی آر، پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی اور دیگر سرکاری اداروں کے واجب الادا بقایاجات کا بوجھ بھی کم ہوگا۔
دستاویزات کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کے تحت بجٹ کی حدود کے باعث حکومت کے پاس پی آئی اے کو مزید مالی معاونت فراہم کرنے کی محدود گنجائش تھی، نجکاری کے بعد فضائی بیڑے کی اپ گریڈیشن، نئے روٹس کے آغاز، روزگار کے مواقع میں اضافے اور ٹیکس ریونیو بڑھنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
ساؤتھ ایئر کا کراچی سے ڈومیسٹک پروازوں کا آغاز، متعدد نئے روٹس متعارف
مزید کہا گیا ہے کہ خریدار کنسورشیم کے لیے پہلی کلوزنگ کی تاریخ 29 جون مقرر کی گئی تھی، جس کے تحت حکومت پاکستان کو فروخت کی مد میں 10 ارب روپے ادا کیے جا چکے ہیں۔
اس کے علاوہ پی آئی اے سی ایل میں 80 ارب روپے کی نئی ایکویٹی شامل کی گئی ہے اور انتظامی کنٹرول خریدار کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ آئندہ 12 ماہ کے دوران مزید 45 ارب روپے کی لازمی ایکویٹی شامل کی جائے گی۔
