امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا پلیٹ فارمز کے 26 ملازمین نے کمپنی کے خلاف ایک منفرد مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حالیہ بڑے پیمانے پر ہونے والی برطرفیوں میں مصنوعی ذہانت (AI) سے چلنے والے سسٹمز کا استعمال کیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ مقدمہ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر اوکلینڈ کی وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا۔

درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ میٹا نے ملازمین کی کارکردگی، پیداواری صلاحیت اور اے آئی ٹولز کے استعمال جیسے عوامل کی بنیاد پر اسکورنگ کی، جس سے وہ ملازمین متاثر ہوئے جو بیماری یا خاندانی ذمہ داریوں کے باعث کچھ عرصہ کام سے دور رہے تھے۔
مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان ملازمین کو مئی میں برطرفی کا نوٹس دیا گیا تھا اور ان کی ملازمتیں 22 جولائی سے ختم کی جانی ہیں۔ درخواست گزار عدالت سے ابتدائی حکم امتناعی چاہتے ہیں تاکہ برطرفیوں کے عمل کو اس وقت تک روکا جا سکے جب تک ان کے دعوے نجی ثالثی میں زیر سماعت رہیں۔
میٹا کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مقدمے میں کوئی حقیقت نہیں۔ کمپنی کے ترجمان کے مطابق افرادی قوت سے متعلق فیصلے انسان کرتے ہیں، نہ کہ مصنوعی ذہانت۔ ان کا کہنا تھا کہ تنظیمی ڈھانچے اور ملازمین کے حوالے سے تمام فیصلے انسانی منتظمین کی نگرانی میں کیے گئے۔

رپورٹس کے مطابق یہ امریکا کی کسی بڑی کمپنی کے خلاف اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ اے آئی کو ملازمین کی برطرفی کے عمل میں استعمال کیا گیا۔
یاد رہے کہ میٹا نے رواں برس مئی میں اپنی عالمی افرادی قوت کا تقریباً 10 فیصد، یعنی لگ بھگ آٹھ ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اگرچہ اس کے بعد کمپنی کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے کہا تھا کہ اس سال مزید برطرفیوں کا ارادہ نہیں، تاہم کمپنی مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری اور اے آئی پر مبنی نظام کو اپنے کاروبار کا مرکزی حصہ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کر رہی ہے۔
آسٹریلیا کا ایپل، گوگل اور میٹا پر بچوں کے تحفظ میں ناکامی کا الزام
مقدمہ دائر کرنے والے 26 ملازمین، جنہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی، کا تعلق کیلیفورنیا، نیویارک سمیت امریکا کی چھ مختلف ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی سے ہے۔ ان کا الزام ہے کہ میٹا نے وفاقی اور ریاستی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے معذور، حاملہ یا میڈیکل چھٹی لینے والے ملازمین کے ساتھ امتیازی سلوک کیا۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق میٹا نے ملازمین کی درجہ بندی اور برطرفی کی فہرست تیار کرنے کے لیے کئی اندرونی اے آئی سسٹمز استعمال کیے، جن میں “Metamate” نامی بڑی لینگویج ماڈل اسسٹنٹ، ملازمین کی معلومات محفوظ کرنے والا “Second Brain”سسٹم اور ایک ایسا پروڈکٹیوٹی اسکور شامل تھا جو کی بورڈ کے استعمال، اسکرین سرگرمی، ای میلز اور براؤزر ہسٹری کا تجزیہ کر کے تیار کیا جاتا تھا۔ یہ تمام نکات اب عدالت میں قانونی جانچ کا حصہ ہوں گے۔
