قطر کے سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات کی تصدیق قطری سرکاری خبر رساں ایجنسی نے کی ہے، تاہم انتقال کی وجہ فوری طور پر نہیں بتائی گئی۔
شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کو جدید قطر کا معمار تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے تقریباً 18 سالہ دورِ حکومت(1995 سے 2013 ) میں خلیجی ریاست کو عالمی سفارت کاری، سرمایہ کاری، توانائی اور میڈیا کے میدان میں نمایاں مقام دلایا۔ ان کے دور میں قطر نے نہ صرف اقتصادی ترقی کی نئی مثال قائم کی بلکہ عالمی سطح پر اپنا سیاسی اور سفارتی اثر و رسوخ بھی بڑھایا۔

سابق امریکی صدر باراک اوبامہ سے ملاقات کرتے ہوئے
شیخ حمد نے 1995 میں اپنے والد شیخ خلیفہ بن حمد آل ثانی سے اقتدار سنبھالا۔ بعد ازاں جون 2013 میں انہوں نے ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے رضاکارانہ طور پر اقتدار اپنے صاحبزادے اور موجودہ امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے حوالے کر دیا۔ مشرق وسطیٰ میں اقتدار کی اس پرامن منتقلی کو ایک تاریخی فیصلہ قرار دیا گیا تھا۔
اقتدار منتقل کرتے ہوئے اپنے خطاب میں شیخ حمد نے کہا تھا کہ اب نئی نسل کے لیے آگے بڑھنے اور ملک کی قیادت سنبھالنے کا وقت آ گیا ہے۔ اس وقت شیخ تمیم کی عمر صرف 33 برس تھی۔
شیخ حمد کے دور میں قطر نے عالمی شہرت یافتہ نشریاتی ادارہ ’’الجزیرہ‘‘ قائم کیا، جس نے عرب دنیا میں آزاد صحافت کے ایک نئے باب کا آغاز کیا۔ اگرچہ الجزیرہ کی جرات مندانہ رپورٹنگ کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا، تاہم کئی عرب ممالک اور مغربی حکومتوں نے اس کی پالیسیوں پر اعتراضات بھی اٹھائے۔

الجزیرہ دفتر کا اندرونی منظر
ان کے دورِ حکومت میں قطر ایئرویز دنیا کی صفِ اول کی فضائی کمپنیوں میں شامل ہوئی، جبکہ دوحہ کا جدید بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی تعمیر کیا گیا، جسے بعد میں ان کے نام سے منسوب کیا گیا۔ اسی دور میں قطر نے برطانیہ کے معروف ڈپارٹمنٹل اسٹور ہیروڈز سمیت دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی۔
شیخ حمد نے قطر کو عالمی سفارتی مرکز بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں قطر نے سوڈان، لبنان، فلسطین اور افغانستان سمیت مختلف تنازعات میں ثالثی کی کوششیں کیں۔ 2012 میں وہ غزہ کا دورہ کرنے والے پہلے سربراہِ مملکت بنے، جہاں انہوں نے تعمیراتی منصوبوں اور سرمایہ کاری کے لیے 40 کروڑ ڈالر امداد کا اعلان کیا۔
قطر نے ان کے دور میں مختلف علاقائی تنازعات میں بھی فعال کردار ادا کیا۔ عرب بہار کے دوران لیبیا میں نیٹو کارروائیوں کی حمایت اور شام میں اپوزیشن کی سیاسی معاونت نے قطر کی خارجہ پالیسی کو نمایاں کیا، تاہم ایران، حماس اور اخوان المسلمون سے تعلقات کے باعث بعض عرب ممالک اور مغربی اتحادیوں کے ساتھ اختلافات بھی پیدا ہوئے۔
پاکستان اور قطر کا خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتکاری جاری رکھنے پر اتفاق
شیخ حمد کی قیادت میں قطر نے 2022 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کا اعزاز بھی حاصل کیا، جسے دنیا کے سب سے بڑے کھیلوں کے مقابلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ افتتاحی تقریب میں سابق امیر کی موجودگی پر شائقین نے بھرپور خیر مقدم کیا تھا۔
شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کو ایک ایسے رہنما کے طور پر یاد رکھا جائے گا جنہوں نے محدود آبادی اور رقبے والے قطر کو عالمی سیاست، معیشت، کھیل اور میڈیا میں ایک بااثر ملک کی حیثیت دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
پاکستان کا اظہار افسوس
صدرِ مملکت آصف زرداری نے قطر کے سابق امیر کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکیا ہے۔
صدر مملکت نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، حکومتِ قطر اور قطری عوام سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے قطر کی ترقی، خوشحالی اور خطے میں امن و استحکام کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں، جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
صدر آصف علی زرداری نے مرحوم کے درجات کی بلندی، مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔
