ایران نے امریکا سے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کے امریکی صدر ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کر دیا۔
ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کی تردید کی ہے کہ ایران نے امریکا سے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی تھی۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ہم نے امریکا سے مذاکرات کی درخواست نہیں کی، تاہم ہم نے قطری ثالثوں کا دورہ ایران قبول کیا تھا۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی کا مناسب اور اسی زبان میں جواب دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے ان سے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی ہے اور ہم نے ایران کی درخواست پر اتفاق کر لیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا نے دوٹوک انداز میں واضح کر دیا کہ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے۔ تاہم خطے میں استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی رابطوں کو جاری رکھنا ضروری ہے۔
امریکی صدر نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ مذاکرات کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کو کم کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب امریکی نیوز ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران مذاکرات کا نیا دور آئندہ ہفتے متوقع ہے، ممکنہ طور پر امریکا ایران مذاکرات سوئٹزر لینڈ میں ہوں گے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے ایرانی مالیاتی نیٹ ورکس پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
