اسلام آباد، وفاقی دارالحکومت کے تھانہ کوہسار میں ایک غیر ملکی خاتون سے مبینہ بدسلوکی اور تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پروائرل ہونے کے بعد اسلام آباد پولیس نے واقعے کی انکوائری شروع کردی ہے۔
وائرل ویڈیو میں غیر ملکی خاتون کو تھانے کے اندر چیخ و پکار کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ ایک لیڈی پولیس اہلکار ان سے سخت لہجے میں گفتگو کرتی نظر آتی ہیں۔
خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ تھانے میں موجود لیڈی پولیس اہلکارنے ان پر تشدد کیا، جس کے بعد واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی۔
ذرائع کے مطابق غیر ملکی خاتون تھانہ کوہسار میں لین دین سے متعلق ایک معاملے کے سلسلے میں آئی تھیں۔ واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف سوالات اٹھائے گئے، جس پر اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ حکام نے فوری نوٹس لیا۔
ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد قاضی علی رضا نے معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے اے ایس پی نوشیروان کو انکوائری کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انکوائری میں تمام شواہد، ویڈیو اور متعلقہ افراد کے بیانات کی روشنی میں حقائق کا تعین کیا جائے گا۔
اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے مطابق ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر ملکی خاتون کا معاملہ مکمل طور پر سول نوعیت کا ہے اور اس کا کسی فوجداری مقدمے سے تعلق نہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ پولیس دونوں فریقین کے درمیان افہام و تفہیم کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا رہا ہے اور انکوائری مکمل ہونے کے بعد قانون اور شواہد کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خیال رہے کہ چند دن پہلے اسلام آباد کے نیو بلیوایریا میں ایک پولیس اہلکار کی جانب سے نوجوان کو سرعام تھپڑ مارنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار پہلے تین نوجوانوں کو روکتا ہے اور ان سے دستاویزات طلب کرتا ہے، دستاویزات اپنے قبضے میں لینے کے فوراً بعد اہلکار اچانک ایک نوجوان کو تھپڑ مار دیتا ہے۔
واقعہ مصروف شاہراہ پر پیش آیا، جہاں موجود شہری یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے، ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر پولیس اہلکار کے رویے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
تاہم خبر فائل ہونے تک اسلام آباد پولیس کی جانب سے واقعے کی وجوہات یا وائرل ویڈیو کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی گئی۔
