لاہورسےکراچی جانےوالی شالیمارایکسپریس حادثے کا شکار ہوگئی۔
تفصیلات کے مطابق لاہور سے کراچی جانے والی شالیمار ایکسپریس ٹرین کو خانیوال لوکو شیڈ کے قریب حادثہ پیش آیا جہاں
ٹرین کی بوگی پٹری سے اتر گئی۔
صرف پٹرولیم قیمتیں کم ہونے سے ٹرین کرایوں میں کمی ممکن نہیں، وزیر ریلوے
شالیمار ایکسپریس کی ٹرالی کے ویل سے ریل کا پہیہ نکل کر دوسری بوگی سے جا لگا اور زوردار جھٹکا سے ٹرین پٹری سے اتر گئی۔
ٹرین کی رفتار کم تھی جس کی وجہ سے معجزانہ طور پر کوئی جانی نقصان نہ ہوا۔ریلوے انتظامیہ کے مطابق اطلاع ملتے ہی ریلوے انتظامیہ ملازمین کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔
شالیمارایکسپریس کی 5بوگیاں الگ کرکےخانیوال ریلوےاسٹیشن پہنچادی گئیں،ریلوے کاامدادی عملہ ٹرین کوٹریک پربحال کرنے میں مصروف ہے۔ریلیف ٹرین کےبعداپ اورڈاؤن ریلوےٹریک بحال کیا جائے گا۔
ملکی تاریخ میں خوفناک ٹرین حادثات
پاکستان میں 70 سال کے دوران ٹرین حادثات میں ہزاروں افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوئے۔
ملکی تاریخ کا پہلا بڑا ٹرین حادثہ 1953ء میں جھمپیر کے قریب واقعہ ہوا جس میں 200 افراد لقمہ اجل بنے ، رواں سال 27 اپریل کو کراچی ایکسپریس کی بوگی میں آگ لگنے کے نتیجے میں خاتون سمیت 7 افراد چل بسے تھے۔
پاکستان ریلویز نے 8 ٹرینیں عارضی طور پر بند کر دیں
2018 سے مارچ 2021 تک متعدد حادثات کے نتیجے میں 230 افراد جاں بحق اور 285 زخمی ہوئے۔ 7 مارچ 2021 کو سکھرمیں ٹرین پٹری سے اتر نے سے ایک شخص ہلاک اور 40 سے زیادہ زخمی ہوئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان معرض وجود میں آنے کے بعد جو ریلوے ٹریک پاکستان کو ملا تھا ، اس میں کسی قسم کی جدت لائی گئی اور نہ ہی کوئی تبدیلی کی گئی، متعدد ریلوے پلوں کی مدت معیاد پوری ہوچکی ہے مگر حکومت ان پر کوئی توجہ نہیں دے رہی۔
مری میں گلاس ٹرین منصوبہ جلد شروع ہونے جارہا،وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب
اس کے علاوہ ملک بھر میں ہزاروں ایسے پوائنٹس موجود ہیں جہاں یا تو پھاٹک نہیں اوریا پھر پھاٹک والا نہیں ہوتا جس کی وجہ سے خوفناک حادثات رونما ہوتے ہیں۔
