ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ تہران کی گرینڈ مصطیٰ کمپلکیس میں ادا کر دی گئی۔ جنازے میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی اسپیکر باقر قالیباف اور دیگر اعلیٰ حکام سمیت لاکھوں افراد نے شرکت کی۔
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی صاحبزادی، بہو، داماد اور کمسن نواسی کی نماز جنازہ بھی ادا کر دی گئی ، ایرانی میڈیا کے مطابق آیت اللہ جعفر سبحانی نے شہید ایرانی سپریم لیڈر کی نماز جنازہ پڑھائی۔
آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ میں 100 ممالک کے وفود نے شرکت کی ، ایران میں کل عام تعطیل اور 8 جولائی کو یوم سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔
جنازہ گاہ اور تہران کی سڑکوں پر سیاہ لباس پہنے، انتقام اور انصاف کے حصول کی علامت سرخ پرچم لہراتے سوگواروں نے شہید رہبر کو الوداع کیا۔
گرینڈ مصلیٰ کے بڑے صحن میں جمع ہزاروں لوگوں نے ہاتھوں میں سرخ جھنڈے اٹھا رکھے تھے، جنہیں ایران میں خون کا بدلہ اور انتقام لینے کی علامت سمجھا جاتا ہے، وہاں موجود لوگ مسلسل ’امریکا مردہ باد‘ اور ’انتقام، انتقام‘ کے نعرے لگا رہے تھے، جس سے پوری فضا گونج رہی تھی۔
پیر کو صبح جنازے کا مرکزی جلوس نکالا جائے گا، اس کے بعد میت کو قم منتقل کیا جائے گا جہاں سے جسد خاکی کو عراقی شہر نجف اور کربلا لے جایا جائے گا، 9 جولائی کو شہید سپریم لیڈر کی ان کے آبائی شہر مشہد میں تدفین کی جائے گی.
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے رواں برس 28 فروری کو مشترکہ حملے میں آیت اللّٰہ خامنہ ای کی شہادت کے سبب 8 مارچ کو یعنی تقریباً ایک ہفتے ہی میں نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کر لیا گیا تھا تاہم شہید سپریم لیڈر کی فوری تدفین نہیں کی گئی تھی۔
گزشتہ روز شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ سید علی خامنہ ای اور ان کے ساتھ شہید ہونے والے ان کے اہلِ خانہ کی میتیں تہران میں عوامی دیدار کے لیے رکھی گئی تھیں۔
