اسلام آباد میں واقع جامعہ حفصہ میں 18 سالہ طالبہ پراسرار حالات میں مردہ پائی گئی، جس کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
اسلام آباد پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والی لڑکی کی شناخت مروہ کے نام سے ہوئی ہے، جس کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع دیر سے تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق طالبہ جمعرات کی شب اپنے کمرے میں سوئی، تاہم اگلی صبح وہ بے سدھ حالت میں پائی گئی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی سپرنٹنڈنٹ پولیس سٹی ڈاکٹر ایاز کی قیادت میں پولیس کی بھاری نفری، جس میں خواتین اہلکار بھی شامل تھیں، موقع پر پہنچی اور شواہد اکٹھے کرتے ہوئے ابتدائی تحقیقات کا آغاز کیا۔
ذرائع کے مطابق پولیس کو تحقیقات کے دوران مدرسہ انتظامیہ کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، خصوصاً اس وقت جب حکام نے موت کی وجوہات جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم کرانے پر زور دیا۔ انتظامیہ کی جانب سے مبینہ طور پر پوسٹ مارٹم سے گریز کرنے کا کہا گیا، تاہم پولیس نے اسے مشتبہ واقعہ قرار دیتے ہوئے قانونی تقاضا قرار دیا۔
بعد ازاں لاش کو پولی کلینک ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں پولیس کی نگرانی میں پوسٹ مارٹم مکمل کیا گیا۔
ایس پی سٹی ڈاکٹر ایاز کا کہنا ہے کہ حتمی میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد ہی طالبہ کی موت کی اصل وجوہات سامنے آئیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے اور تحقیقات میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہونے کے بعد باقاعدہ مقدمہ درج کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ جامعہ حفصہ، لال مسجد کا خواتین ونگ ہے، جو ماضی میں بھی مختلف تنازعات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کشیدگی کا مرکز رہا ہے۔
