مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال اور حالیہ کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب کی قیادت میں ایک نئے علاقائی سکیورٹی و سفارتی اتحاد کی تشکیل سامنے آئی ہے۔
اس اتحاد میں پاکستان، مصر، ترکیہ اور قطر سمیت کئی اہم ممالک کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد خطے میں استحکام، دفاعی تعاون، سفارتی ہم آہنگی اور بحرانوں کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا بتایا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت، آئندہ دور جاری رکھنے پر اتفاق
امریکی جریدے فارن پالیسی کی رپورٹ کے مطابق اس نئے بلاک کی تشکیل ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی نے خطے کی سکیورٹی کو نئی آزمائش سے دوچار کر رکھا ہے۔ سعودی عرب خطے میں اپنا کردار مزید فعال بنانے کے لیے ایسے شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون بڑھا رہا ہے جو سفارتی اور عسکری سطح پر مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان اس مجوزہ اتحاد میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر سامنے آیا ہے۔
اس اتحاد کا دائرۂ کار صرف عسکری تعاون تک محدود نہیں ہوگا بلکہ توانائی کے تحفظ، سمندری راستوں کی سلامتی، انسداد دہشت گردی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور علاقائی تنازعات کے سفارتی حل پر بھی توجہ دی جائے گی۔ آبنائے ہرمز اور خلیجی بحری راستوں کے تحفظ کو بھی اہم ترجیحات میں شامل کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی فوجی صلاحیت، جوہری قوت، سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ دفاعی تعلقات اور حالیہ سفارتی کردار نے اسلام آباد کی اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ برس ہونے والے اسٹریٹجک دفاعی تعاون کے بعد دفاعی روابط مزید مضبوط ہوئے ہیں، جنہیں اس نئے علاقائی فریم ورک کی بنیاد تصور کیا جارہا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 17 ستمبر 2025ء کو ریاض، سعودی عرب میں ایک تاریخی دفاعی معاہدہ طے پایا تھا جس پر وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے دستخط کیے جسے ’’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوگا تو اسے دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات ایک نئی سطح پر آگئے تھے۔
