دوحہ میں قطر اور پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں آئندہ دور جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق قطر اور پاکستان کی ثالثی میں دوحہ میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں ہوئیں جن میں مختلف امور پر مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ مذاکرات کے دوران اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مختلف پہلوؤں سے متعلق معاملات پر پیش رفت ہوئی، جو لیک لوسرن سربراہی اجلاس میں ہونے والی پیش رفت کا تسلسل ہے۔
PR No. 160/2026
Qatari and Pakistani Mediatiors Meetings with the US and Iranian Negotiations in Doha Today
🔗⬇️ pic.twitter.com/BXTW9RgiLY
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) July 2, 2026
بیان کے مطابق دونوں فریقین نے اتفاق کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ زیرِ غور معاملات پر مزید پیش رفت ممکن بنائی جا سکے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کے بعد باہمی مشاورت سے طے کی جائے گی۔
ترجمان نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ سفارتی رابطوں اور مسلسل بات چیت کے ذریعے اہم معاملات کے حل کی جانب پیش رفت جاری رہے گی۔
مذاکرات میں اس وقت شامل ہوں گے جب امریکا معاہدے میں طے شدہ شرائط پوری کرے گا، ایران
اس سے قبل ایران نے واضح کیا تھا کہ مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ شرائط پوری ہونے تک مزید مذاکرات میں شامل نہیں ہونگے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرباقرقالیباف نے ایرانی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کی جانب سے جاری موجودہ ملاقاتوں کا مقصد ایم او یوکے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ لبنان ایران، امریکا،لبنان میں جنگ کےخاتمے کی نگرانی کے لیے مشترکہ کمیٹی قائم کریں گے۔
باقرقالیباف نے بتایا کہ بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے بعد سے ایران 40 ملین سے زائد بیرل تیل برآمد کر چکا ہے، ایران آبنائے ہرمز میں اپنے حقوق پر کبھی سمجھوتا نہیں کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق آبنائے ہرمز سے بغیر کسی لاگت کے گزرنے کی اجازت صرف 60 دن کے لیے ہوگی، آبنائے ہرمز پر خودمختاری ایران اور عمان کی ہے، آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت انہی انتظامات کے مطابق ہوگی جو ایران مقرر کرے گا۔
ایران سے تکنیکی مذاکرات جاری ، کامیاب ہوں یا ناکام ، ہماری پوزیشن مضبوط ہے ، جے ڈی وینس
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کامیاب ہوں یا ناکام، دونوں صورتوں میں امریکا مضبوط پوزیشن میں ہے۔
فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں، تاہم اگر بات چیت ناکام بھی ہو جائے تو بھی ایران کے مقابلے میں امریکا کی پوزیشن زیادہ مضبوط رہے گی۔ ایران کا جوہری پروگرام اور اس کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو نشانہ بنایا تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ امریکا فوجی ردعمل دے گا۔
