جنوبی افریقا کے شہر جوہانسبرگ میں واقع لیووکوپ کریکشنل فیسلٹی کی آرٹ گیلری ان دنوں عوامی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جہاں قیدیوں کے ہاتھوں تیار کیے گئے فن پارے نمائش کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔ اس منفرد اقدام کا مقصد قیدیوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور انہیں معاشرے کا مثبت اور کارآمد فرد بنانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
یہ گیلری محکمہ اصلاحِ خانہ کے بحالی پروگرام کا حصہ ہے، جس کے تحت قیدیوں کو مصوری، مجسمہ سازی، دستکاری اور دیگر فنون کی تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ دورانِ قید نئی مہارتیں حاصل کریں اور رہائی کے بعد باعزت روزگار کمانے کے قابل بن سکیں۔

حکام کے مطابق سال 2023 سے اب تک جنوبی افریقا کی مختلف جیلوں میں آرٹس اینڈ کرافٹس کی مجموعی طور پر 9 گیلریاں قائم کی جا چکی ہیں، جہاں قیدیوں کی تخلیقات نہ صرف نمائش کے لیے رکھی جاتی ہیں بلکہ بعض فن پارے فروخت بھی کیے جاتے ہیں، جس سے قیدیوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
لیووکوپ جیل میں اس وقت 34 قیدیوں کے فن پارے نمائش کا حصہ ہیں۔ ان تخلیقات میں جنوبی افریقا کی ثقافت، سماجی اقدار، ذاتی تجربات، امید، ندامت اور زندگی میں مثبت تبدیلی کے پیغامات نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔

قتل کے مقدمے میں سزا کاٹنے والے 51 سالہ قیدی فریڈی مونگکوائی نے بتایا کہ مصوری اور مجسمہ سازی نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا ہے۔ ان کے مطابق فن نے انہیں ذہنی سکون، خود اعتمادی اور مستقبل کے لیے امید دی، جبکہ انہوں نے زندگی کو ایک نئے زاویے سے دیکھنا سیکھا۔ ان کی تازہ ترین تخلیق عالمی فٹبال مقابلے کی ٹرافی کی خوبصورت نقل ہے، جسے نمائش میں آنے والے افراد خاصی دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں۔

محکمہ اصلاحِ خانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ایسے بحالی پروگرام قیدیوں کی اصلاح میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر قیدی دورانِ سزا مثبت سرگرمیوں میں حصہ لیں اور عملی مہارتیں حاصل کریں تو رہائی کے بعد دوبارہ جرم کی جانب جانے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں، جس سے جیلوں میں بڑھتی ہوئی گنجائش اور دوبارہ جرائم کے مسائل پر بھی قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔

ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ فنونِ لطیفہ نہ صرف ذہنی دباؤ کم کرنے اور شخصیت میں مثبت تبدیلی لانے کا ذریعہ بنتے ہیں بلکہ قیدیوں کو معاشرے میں دوبارہ باوقار انداز میں شامل ہونے کا اعتماد بھی فراہم کرتے ہیں۔
