امریکا نے مقبوضہ بیت المقدس میں مستقل سفارتخانے کی تعمیر کیلئے اسرائیل کے ساتھ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔
بدھ کے روزایک تقریب کے دوران اسرائیل کے وزیرِ خارجہ گیڈئین سار اور اسرائیل میں امریکا کے سفیر مائیک ہکابی نے مقبوضہ بیت المقدس میں مستقل امریکی سفارتخانے کے لیے زمین کی الاٹمنٹ کے معاہدے کو حاضرین کے سامنے پیش کیا۔
اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے اسرائیلی وزارتِ خارجہ میں دستخطی تقریب کے دوران کہا کہ امریکا یروشلم کو یہودی عوام کا ازلی، مقامی اور ہمیشہ کا دارالحکومت تسلیم کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا یروشلم کی سرزمین پر اپنا پرچم نصب کرے گا اور یہاں ایک نیا، مستقل سفارتی کمپلیکس تعمیر کیا جائے گا جو اسرائیل میں امریکی سفارتی سرگرمیوں کا مرکزی مرکز ہو گا۔
Honored to stand with Foreign Minister @GidonSaar to sign the lease for America’s permanent new Embassy complex in the heart of Jerusalem. This is a concrete realization of @POTUS’s courageous decision to recognize Jerusalem as Israel’s ancient, eternal, and undivided capital. pic.twitter.com/O3c8c2fqDC
— Ambassador Mike Huckabee (@USAmbIsrael) July 1, 2026
اسرائیل کے وزیر خارجہ نے اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان “ناقابلِ شکست اتحاد” کی عکاسی کرتا ہے۔
اعلامیے کے مطابق امریکی سفارتخانہ جنوبی مقبوضہ بیت المقدس میں واقع ایلنبی کمپاؤنڈ میں تعمیر کیا جائے گا۔
دوسری جانب اسرائیلی حقوق کی تنظیم عدالہ نے سفارتخانے کی تعمیر کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام “ایک گہری تاریخی ناانصافی کو قانونی حیثیت دینے کے مترادف ہے”۔
اسرائیل کا غزہ جنگ بندی مرکز سے اسپین کو نکالنے کا اعلان
واضح رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس اسرائیل اور فلسطین کے درمیان سب سے زیادہ متنازع شہروں میں سے ایک ہے، جہاں فلسطینی مشرقی یروشلم کو مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔
اپنے پہلے دورِ صدارت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دسمبر 2017 میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے امریکا کے سفارتی مشن کو تل ابیب سے منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔
