اسلام آباد، سپریم کورٹ نے جہیز سے متعلق ایک اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ شادی کے موقع پر دلہن کو ملنے والے زیورات، سونا اور برائیڈل تحائف صرف دلہن کی ذاتی ملکیت ہیں اور شوہر، ساس، سسر یا دیگر سسرالی رشتہ دار ان پر کسی قسم کا قانونی یا ملکیتی حق نہیں رکھتے۔
چار صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس شکیل احمد نے تحریر کیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ دلہن کو دیا گیا سونا، زیورات اور دیگر تحائف اس کی ذاتی ملکیت شمار ہوں گے، اس لیے ان پر قبضہ کرنا، انہیں روک لینا یا ناجائز استعمال کرنا دلہن کو اس کے قانونی اور ملکیتی حقوق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ کسی بھی تحفے کی ملکیت کا تعین اس نیت اور مقصد کی بنیاد پر کیا جائے گا جس کے تحت وہ تحفہ دیا گیا تھا۔ اگر تحفہ دلہن کو دیا گیا ہے تو اس پر صرف اسی کا حق ہوگا۔
سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے پی ٹی آئی رجسٹریشن کیس میں ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا
عدالت عظمیٰ نے مزید قرار دیا کہ اگر بیوی کو اپنے زیورات، جہیز یا دیگر ذاتی سامان واپس نہ ملے تو وہ ان کی واپسی کے لیے فیملی کورٹ سے رجوع کرسکتی ہے جبکہ فیملی کورٹ کو ایسے مقدمات کی سماعت اور فیصلہ کرنے کا مکمل قانونی اختیار حاصل ہے۔
سپریم کورٹ نے سابق شوہرغلام حبیب کی شازیہ بی بی کے خلاف دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا اوراس اصول کو بھی تقویت دی کہ شادی کے موقع پر دلہن کو ملنے والے زیورات اور تحائف پر کسی اور کا دعویٰ قابل قبول نہیں ہوگا۔
