مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان ایک بار پھر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگ بندی پر غیر یقینی صورتحال کے باوجود دنیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائن نے غیر معمولی استحکام کا مظاہرہ کیا۔
غیر ملکی کرنسی کے مطابق کاروباری ہفتے کے اختتام پر ایک بٹ کوائن کی قیمت تقریباً 60 ہزار ڈالر کے قریب برقرار رہی، جبکہ بیشتر متبادل کرپٹو کرنسیاں معمولی دباؤ کا شکار رہیں۔
ہفتے کے آغاز میں بٹ کوائن نے تیزی دکھاتے ہوئے 65 ہزار 500 ڈالر کی سطح کو چھوا، تاہم فروخت کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث قیمت میں نمایاں کمی دیکھی گئی اور یہ 62 ہزار 400 ڈالر سے بھی نیچے آ گئی۔
بدھ کو مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے باعث بٹ کوائن تقریباً 59 ہزار ڈالر تک گر گیا۔ جبکہ جمعرات کو معمولی بحالی کے بعد ایک اور فروختی لہر نے اسے 58 ہزار ڈالر تک پہنچا دیا، جو 2024 کے اواخر کے بعد کم ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔
بعد ازاں خریدار دوبارہ متحرک ہوئے اور بٹ کوائن کی قیمت میں تقریباً دو ہزار ڈالر کی بحالی دیکھنے میں آئی، جس کے بعد گزشتہ 36 گھنٹوں سے یہ تقریباً 60 ہزار ڈالر کے قریب مستحکم ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات کے باوجود بٹ کوائن میں شدید اتار چڑھاؤ نہ آنا سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات سستی کرنے پر حکومت اور آئل کمپنیوں میں اختلافات بڑھ گئے
اعداد و شمار کے مطابق بٹ کوائن کی مجموعی مارکیٹ ویلیو 1.2 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ عالمی کرپٹو مارکیٹ میں اس کا غلبہ بھی بڑھ کر تقریباً 56 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
