انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد نے پی ٹی آئی 26 نومبر احتجاج کیس میں ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد کیخلاف تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔
عدالت نے ڈی آئی جی آپریشنز جواد طارق کو سزا سے قبل حتمی نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں ڈی آئی جی آپریشنز عدالتی حکم عدولی کے مرتکب ہوئے، ڈی آئی جی جواب دیں، عدالتی حکم عدولی پر کیوں نہ آپ کو سزا سنائی جائے؟
اے ٹی سی کے جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ تفتیشی افسر کو بارہا مکمل چالان جمع کرانے کی ہدایت کی گئی لیکن کچھ نہیں کیا گیا ،ڈی آئی جی آپریشنز کو دفعہ 37 اے ٹی اے کے تحت حتمی نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے ہائیکورٹس کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا
عدالت نے کا ڈی آئی جی آپریشنز کو اگلی سماعت تک لازمی تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ عبوری چالان میں ملزمان کی حیثیت واضح نہ ہونے کی وجہ سے ٹرائل شروع نہیں ہو سکا، گزشتہ نوٹس کے باوجود نہ تو ڈی آئی جی آپریشنز پیش ہوئے اور نہ ہی جواب جمع کرایا گیا۔
تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ ریکارڈ کے مطابق ڈی آئی جی کیخلاف کارروائی کیلئے بظاہر کافی مواد موجود ہے، ڈی آئی جی قانونی طور پر چالان پیش کرنے کے پابند تھے لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔
پراسیکیوٹر نے کہا کہ تفتیشی افسر کو تبدیل کر دیا گیا، عدالتی احکامات پر من و عن عمل کیا جائے گا، جبکہ نئے تفتیشی افسر انسپکٹر ظفر اقبال نے رپورٹ اور چالان کیلئے عدالت سے مختصر مہلت مانگ لی ، بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 6 جولائی تک ملتوی کر دی۔
