ایرانی صدر مسعود پزشکیان ممکنہ طور پر کل ایک اہم اور مختصر دورے پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچیں گے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق اپنے اس ایک روزہ اہم ترین دورے کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف سے الگ الگ اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں کریں گے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ان ہائی پروفائل ملاقاتوں کے دوران سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے ایران امریکہ مذاکرات کی تازہ ترین پیش رفت، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد کی صورتحال، خطے کے مجموعی سیاسی و سیکیورٹی حالات اور پاک ایران دوطرفہ تعلقات کے فروغ سمیت باہمی دلچسپی کے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اس دورے کا اعلان سوئٹزرلینڈ میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کے تحت ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہونے کے بعد کیا گیا۔
مذاکرات کے بعد قطر اور پاکستان نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جس کے مطابق فریقین نے مذاکرات کی نگرانی کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا جبکہ حتمی معاہدے کے لیے 60 روزہ روڈ میپ بھی منظور کیا گیا۔
مزید کہا گیا کہ ایران امریکا کے درمیان تکنیکی مذاکرات فوری شروع ہوں گے، آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے رابطہ لائن قائم کر دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ لبنان جنگ بندی پر عملدرآمد کے لیے ڈی کنفلیکشن سیل قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا جبکہ ایٹمی پروگرام اور پابندیوں سے متعلق ورکنگ گروپس تشکیل دیئے جانے پر اتفاق ہوا۔
یاد رہے کہ مذاکرات سے ایک روز قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا تھا کہ مخالف فریق بھی ایران کے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کا موجودہ مؤقف تہران کی پالیسی کے ساتھ بالکل ہم آہنگ ہے اور شہید رہنما آیت اللہ خامنہ ای نے کئی بار کہا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنانا چاہتا۔ تاہم، انہوں نے زور دے کر کہا، کہ ایران یورینیم کی افزودگی کے اپنے بنیادی حق سے نہ کبھی پیچھے ہٹا ہے اور نہ کبھی پیچھے ہٹے گا۔
