قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ، معاشی صورتحال، ٹیکس اصلاحات اور حکومتی اقدامات پر تفصیلی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں اپنی معاشی سمت واضح کر دی ہے اور متعدد اہم تجاویز کو فنانس بل کا حصہ بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ نیشنل اکاؤنٹس اور معاشی اشاریوں سے متعلق اعداد و شمار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور آبادی و صحت کی سہولیات کی بنیاد پر اکنامک انڈیکیٹرز جاری کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کی تیاری میں اراکینِ اسمبلی اور سیاسی جماعتوں کے سربراہان کی تجاویز شامل کی گئیں، جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہے اور رواں سال 41 ارب ڈالر ترسیلاتِ زر کا ہدف حاصل کر لیا جائے گا، جبکہ آئی ٹی برآمدات کے ساڑھے 4 ارب ڈالر تک پہنچنے کی قوی توقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے پر توجہ دے رہی ہے اور ریٹیلرز و تاجروں کو ٹیکس نظام کا حصہ بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ ایف بی آر کی اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے صوابدیدی اختیارات کا خاتمہ کیا جائے گا۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت کا بنیادی ہدف برآمدات پر مبنی معاشی ترقی ہے، جبکہ زراعت کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کسانوں کے لیے متعدد ریلیف پیکجز متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی اسکیم سے ساڑھے سات لاکھ چھوٹے کسان مستفید ہوں گے، زرعی قرضوں کی سبسڈی کے لیے 9.5 ارب روپے، کھاد کی قیمتوں میں استحکام کے لیے 15.8 ارب روپے اور یوریا کھاد پر 10 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی گئی ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ بزنس لون اسکیم کے تحت 109 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے جائیں گے اور ٹیکس نیٹ میں توسیع کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکومت کی سفارتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر امن کے قیام اور تنازعات کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوتے ہی عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا گیا جب کہ وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کوبھی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
