نئی تحقیق کے مطابق ہفتے میں تین بار فرنچ فرائز کھانے سے ٹائپ 2 شوگر کے خطرے میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔
عام طور پر آلو کو شوگر کے خطرے میں اضافے کا سبب سمجھا جاتا ہے، تاہم نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آلو سے زیادہ اس کے پکانے کا طریقہ اہمیت رکھتا ہے۔
تحقیق کے مطابق آلو کی دیگر اقسام، جیسے ابلے ہوئے، میشڈ یا بیکڈ آلو، ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے میں نمایاں اضافے کا سبب نہیں بنتے۔
بلڈ شوگر متوازن رکھنے کیلئے رات کے کھانے میں غذاؤں کے حوالے سے ماہرین غذائیت کا مفید مشورہ
محققین نے تقریباً 40 سال کے عرصے میں 2 لاکھ 5 ہزار سے زائد امریکی طبی ماہرین کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔ تحقیق میں شامل تمام افراد ابتدا میں شوگر، امراضِ قلب اور کینسر سے محفوظ تھے ، ان کی غذائی عادات کا ہر چار سال بعد جائزہ لیا جاتا رہا۔
فالو اپ کے دوران 22 ہزار 299 افراد میں ٹائپ 2 شوگر کی تشخیص ہوئی۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق مجموعی طور پر ہفتے میں تین بار آلو کھانے کا تعلق ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے میں 5 فیصد اضافے سے دیکھا گیا۔
جب آلو کی مختلف اقسام کا الگ الگ جائزہ لیا گیا تو فرنچ فرائز کی ہفتہ وار تین سرونگز ٹائپ 2 ذیابیطس کے 20 فیصد زیادہ خطرے سے منسلک پائی گئیں، جبکہ آلو کی دیگر اقسام میں ایسا کوئی نمایاں تعلق سامنے نہیں آیا۔
ماہرین کے مطابق اس اضافی خطرے کی وجہ فرنچ فرائز کو تیار کرنے کا طریقہ ہے۔ انہیں عموماً گہرے تیل میں تلا جاتا ہے، زیادہ نمک کے ساتھ کھایا جاتا ہے اور اکثر فاسٹ فوڈ غذا کا حصہ ہوتے ہیں۔
نوجوانی میں شوگر کا باعث بننے والی عادتیں
محققین نے واضح کیا کہ یہ ایک مشاہداتی مطالعہ تھا جس یہ ثابت نہیں ہوتا کہ فرنچ فرائز براہِ راست ذیابیطس کا سبب بنتے ہیں۔ تاہم نتائج اس بات کی نشاندہی ضرور کرتے ہیں کہ فرنچ فرائز کا زیادہ استعمال بیماری کے خطرے میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ شوگر کے خطرے کے بارے میں فکر مند افراد تمام اقسام کے آلوؤں سے پرہیز کرنے کے بجائے فرنچ فرائز کا استعمال محدود رکھیں اور اپنی خوراک میں ثابت اناج اور سبزیوں کو ترجیح دیں۔
