ایپل نے عندیہ دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کی بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث میموری چپس کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کمپنی اپنی مصنوعات کی قیمتیں بڑھا سکتی ہے۔
کمپنی کے سی ای او ٹِم کُک نے کہا کہ چپس کی قیمتوں میں اضافہ اب “ناقابلِ برداشت” ہو چکا ہے اور قیمتوں میں اضافہ “ناگزیر” ہو گیا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ نئی قیمتیں کب لاگو ہوں گی یا کن مصنوعات پر اثر پڑے گا۔
رپورٹس کے مطابق اس بات کی کوئی حتمی اطلاع نہیں کہ ستمبر میں لانچ ہونے والے iPhone 18 کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا یا نہیں۔
میموری چپس، جو اسمارٹ فونز اور دیگر ڈیوائسز کا اہم حصہ ہیں، حالیہ مہینوں میں AI ٹیکنالوجی کی تیزی سے بڑھتی مانگ کے باعث مہنگی ہو گئی ہیں۔
ٹم کک کے مطابق: “ہم نے صارفین کو بچانے کی پوری کوشش کی، لیکن اب صورتحال برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا۔”
مزید برآں ایران میں جاری جنگ کے باعث ہیلیم گیس کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جو سیمی کنڈکٹرز بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، جس سے چپ سازی مزید مہنگی ہو گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 2026 میں اسمارٹ فونز کی عالمی اوسط قیمت میں تقریباً 20 فیصد اضافہ متوقع ہے، جبکہ نئی ڈیوائسز کی قیمتیں موجودہ ماڈلز کے مقابلے میں 150 ڈالر تک زیادہ ہو سکتی ہیں۔
دیگر بڑی کمپنیوں جیسے TSMC، Samsung، Sony اور Nintendo نے بھی چپ کی قلت اور بڑھتی لاگت کے باعث قیمتوں میں اضافے کا عندیہ دیا ہے۔
