صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے تاریخی امن معاہدے کے سلسلے میں “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” پر دستخط کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے اور پوری دنیا کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا ہے۔
صدرِ مملکت نے اپنے خصوصی بیان میں اس عزم کا اظہار کیا کہ ترقی کا واحد راستہ صرف اور صرف امن ہے کیونکہ جنگ تباہی اور مصیبت کے سوا کچھ نہیں لاتی۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طویل تنازع نے خطے کے عوام کو بے پناہ مشکلات سے دوچار کیا اور اس کشیدگی کی وجہ سے عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی، بین الاقوامی تجارت اور معاشی استحکام شدید متاثر ہوا۔
صدر زرداری نے امید ظاہر کی کہ ایسی کشیدگی کی صورتحال اب دوبارہ کبھی پیدا نہیں ہوگی اور خطے کے ممالک اب اپنی تمام تر توانائیاں، وسائل اور صلاحیتیں صرف ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے وقف کریں گے۔
President Asif Ali Zardari has warmly welcomed the signing of the Islamabad Memorandum of Understanding between the United States of America and the Islamic Republic of Iran, describing it as an historic moment for the region and the world.
In his message, the President said…
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) June 18, 2026
صدر آصف علی زرداری نے اس اہم ترین سفارتی کامیابی پر بات کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ حقیقی ہیرو وہ ہیں جنہوں نے اس ہولناک جنگ کا خاتمہ کیا۔
انہوں نے اس تاریخی مفاہمتی یادداشت کو خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے ایک مضبوط ترین بنیاد قرار دیتے ہوئے دونوں فریقین پر زور دیا کہ وہ اس یادداشت پر اس کی روح کے مطابق مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔
صدرِ مملکت نے اس عظیم پیش رفت پر ملکی قیادت بالخصوص وزیراعظم، وزیرِ خارجہ، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیرِ داخلہ کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا، جبکہ امریکی صدر، ایرانی سپریم لیڈر، ایرانی صدر اور ان کے وزیرِ خارجہ کی دانشمندانہ اور دوراندیش قیادت کی بھی بھرپور تعریف کی۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس بحران کے خاتمے کے لیے مخلصانہ کوششیں کرنے پر برادر ممالک قطر، سعودی عرب، ترکیہ، مصر، روس اور چین کے مثبت کردار کی بھی حوصلہ افزائی کی۔
صدرِ مملکت نے اس پورے سفارتی عمل میں ملکی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس پورے عالمی بحران کے دوران ہمیشہ ایک اصولی، متوازن اور تعمیری کردار ادا کیا ہے جس کے تحت پاکستان نے مسلسل مذاکرات، تحمل اور تمام تر بین الاقوامی تنازعات کے پُرامن حل پر زور دیا۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں مستقل امن اور خوشحالی کے اس مشترکہ اور تاریخی سفر میں ہمیشہ کی طرح آگے بھی اپنی مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کرتا رہے گا۔
