وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے اندر حتمی شکل اختیار کر لے گا اور دونوں ممالک کے درمیان اس معاہدے کے تمام تر اہم نکات اگلے چوبیس گھنٹے میں فائنل ہو جائیں گے۔
ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ میں انہوں نے اس اہم موقع پر انکشاف کیا کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے اس امن معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کی تیاریاں کر رہا ہے جس کے بعد اگلے ہفتے تکنیکی سطح کے باقاعدہ مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا۔
اپنی پوسٹ میں وزیر اعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، ایران کے صدر کا نام ڈاکٹر مسعود پزشکیان، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی، اور امریکی صدر نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف کو ٹیگ کیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے اس اہم ترین سفارتی کامیابی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم مذاکرات کے دوران مسلسل جاری رہنے والی وابستگی اور سنجیدگی پر امریکا اور ایران دونوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔
We are closer to a peace deal than ever before. With finalisation likely expected in the next 24 hours, Pakistan is preparing for the electronic signing of the peace deal immediately after, followed by technical level talks next week.
We would like to thank United States of…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) June 13, 2026
اس کے ساتھ ہی انہوں نے خطے کے دیگر ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے امن کی ان مخلصانہ کوششوں کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کیا۔
وزیراعظم نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والا یہ تاریخی امن معاہدہ خطے میں مستقل اور دیرپا امن کے قیام کے لیے ایک انتہائی مضبوط بنیاد ثابت ہوگا۔
Amid ongoing intense mediation efforts by Pakistan, we are fully aware of incessant misinformation campaign being waged by those who want to sabotage the peace deal. Setting aside the noise, we can confirm that a final, agreed upon text of the peace deal has been reached and…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) June 12, 2026
The Islamabad Memorandum of Understanding has never been closer. Pending its finalization, the media should refrain from entering speculation about its content.
In line with our responsible and transparent approach, all details will be shared with the public in due course.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) June 12, 2026
