وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک بھر میں اسمارٹ میٹرز کی تنصیب تیز کی جائے، بجلی چوری کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پاور ڈویژن کے امور پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کے پاور سیکٹر میں جاری اصلاحات، بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی، بجلی چوری کے خاتمے اور صارفین کو بہتر سہولیات کی فراہمی سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاور سیکٹر میں اصلاحات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں، تاہم شعبے کی بہتری کے لیے مزید محنت اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے نظام میں شفافیت، کارکردگی اور بہتری کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ بجلی چوری کے مکمل خاتمے کے لیے پاور سیکٹر کے ہر سطح پر سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif chairs a meeting on matters related to Power Division. Islamabad, 30 July 2026. pic.twitter.com/dM65uZLW8E
— Prime Minister's Office (@PakPMO) July 30, 2026
انہوں نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے بلنگ سسٹم کا ٹیکنیکل آڈٹ کرانے کی ہدایت کی، جبکہ کمپنیوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے واضح کی پرفارمنس انڈیکیٹرز مقرر کرنے اور مقررہ مدت کے ساتھ اہداف طے کرنے کا حکم دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی بجلی تقسیم کار کمپنی کو اعزاز سے نوازا جائے گا تاکہ اداروں میں مسابقت اور بہتری کا رجحان پیدا ہو۔
اجلاس میں وزیر پاور ڈویژن سردار اویس لغاری، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، سیکرٹری پاور ڈویژن فخر عالم اور پاور سیکٹر ٹاسک فورس کی جانب سے جاری اصلاحاتی اقدامات کو سراہا گیا۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے تکنیکی اور کمرشل نقصانات میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن لاسز کے حوالے سے اسلام آباد، لاہور اور گوجرانوالہ کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی نمایاں رہی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ مالی سال 2025-2026 میں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو)، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) نے 100 فیصد ریکوری حاصل کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ بجلی چوری کی روک تھام، ریکوری بہتر بنانے اور تکنیکی مسائل کے حل کے لیے حیدرآباد، سکھر، لاہور، ملتان اور ہزارہ کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں ڈسکو سپورٹ یونٹس قائم کیے جا چکے ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹرانسفارمر کی سطح پر ایسٹ پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم (APMS) کی تنصیب کا پہلا مرحلہ 30 ستمبر 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا۔ اس نظام سے بجلی چوری اور لوڈشیڈنگ میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ملتان، لاہور، پشاور، ہزارہ اور کوئٹہ ریجنز میں 16.2 ملین سنگل فیز اے ایم آئی میٹرز کی تنصیب کا منصوبہ زیر غور ہے، جس سے بجلی کے استعمال، نگرانی اور ریکوری کے نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکے گا۔
پیٹرولیم قیمتوں کا روزانہ تعین، نئے پرائسنگ میکنزم سے شفافیت میں اضافہ ہوگا، پیٹرولیم پرائسنگ کمیٹی
وزیراعظم نے دیہی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کے مسئلے کے حل کے لیے گاؤں کی سطح پر شمسی توانائی (سولرائزیشن) منصوبے تیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس لغاری، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز، آئی جیز پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
