صدیوں پرانی تہذیبوں اور نسلوں کی طرف سے سیکھا، سنبھالا اور آگے منتقل کیا گیا کشمیری فنِ تعمیر ایک منفرد اور تاریخی طرزِ تعمیر ہے جو لکڑی کی بہترین کاریگری اور پتھر کی خوبصورت تراش خراش کا حسین امتزاج ہے۔
اس فنِ تعمیر کا بہترین نمونہ آزاد کشمیر کی وادی لیپہ کے علاقے نوکوٹ میں آج بھی پوری شان و شوکت سے قائم ہے۔ یہ مکمل طور پر لکڑی سے بنا ایک منفرد مکان ہے جسے 83 سال قبل کشمیری طرز تعمیر پر بنایا گیا تھا۔
وقت کی گرد میں لپٹی کشمیری تہذیب کا یہ دلکش نمونہ آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہے اور اس میں اسے تعمیر کرانے والے کشمیری شہری کا خاندان آج بھی رہائش پذیر ہے۔
پانچ منزلہ اس عمارت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی تعمیر میں لوہے کا ایک بھی کیل استعمال نہیں کیا گیا، بلکہ لکڑی کے جوڑوں کو جوڑنے کے لیے کیل کے طور پر بھی لکڑی کا ہی استعمال کیا گیا ہے۔
مکان کے مالک نے ہم نیوز کو بتایا کہ اس تاریخی مکان کی تعمیر میں اخروٹ، دیودار اور چِیڑ سمیت مختلف اقسام کے 60 سے 65 درختوں کی لکڑی استعمال کی گئی ہے۔
مکان کو دیکھنے کے لیے پاکستان، آزاد کشمیر اور دنیا بھر سے بڑی تعداد میں سیاح وادی لیپہ کا رخ کرتے ہیں۔
مقامی لوگوں اور سیاحوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس تاریخی مکان کو محکمہ آثار قدیمہ کی تحویل میں لے کر سرکاری سطح پر محفوظ کیا جائے تاکہ کشمیری طرز تعمیر کے اس شاہکار کو آنے والی نسلوں کے لیے بچایا جا سکے اور سیاحت کو مزید فروغ مل سکے۔
