اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی حکومت شدید سیاسی بحران کا شکار ہو گئی ہے اور ان کا اقتدار خطرے میں پڑ گیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل میں پارلیمنٹ کی ہاؤس کمیٹی کے اراکین نے پارلیمنٹ (کنیسٹ) کو تحلیل کرنے کے بل کے حق میں 0-8 کی بھاری اکثریت سے ووٹ دے کر اس بل کو باقاعدہ آگے بڑھانے کی منظوری دے دی ہے۔
یہ اہم بل آج ہی اسمبلی میں پہلی ریڈنگ(First Reading) کے لیے پیش کیا جائے گا۔
حکومتی اتحاد کے اندر سنگین اختلافات کے باعث کمیٹی کے چیئرمین نے واضح کیا ہے کہ اس بل کو فی الحال کسی حتمی انتخابی تاریخ کے بغیر ہی آگے بڑھایا جا رہا ہے، اور بعد میں قانون سازی کے آخری مراحل کے دوران اس میں الیکشن کی تاریخ شامل کی جائے گی۔
تاہم، ابتدائی طور پر ممکنہ انتخابات کے لیے 8 ستمبر سے 26 اکتوبر 2026 کے درمیان کی تاریخیں زیرِ غور بتائی گئی ہیں۔
قانون کے مطابق، اگر پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا یہ بل حتمی طور پر منظور ہو جاتا ہے، تو حکومت کے لیے پانچ ماہ کے اندر اندر ملک میں نئے انتخابات کرانا لازمی ہوگا۔
واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اور وہ کسی بھی صورت وقت سے پہلے انتخابات (early elections) سے بچنا چاہتے ہیں۔
