میانمار کے شمالی صوبے شان میں واقع ایک گاؤں میں ہونے والے ہولناک دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 55 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔
اسلام آباد ، گھر میں گیس سلینڈر دھماکا ، 2 افراد جاں بحق ، 3 زخمی
دھماکا اتوار کے روز چین کی سرحد کے قریب نمکھم ٹاؤن شپ کے گاؤں کاؤنگ ٹات میں پیش آیا، جو اس وقت باغی تنظیم تاآنگ نیشنل لبریشن آرمی (TNLA) کے زیرِ کنٹرول ہے۔
بی بی سی کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 25 خواتین اور 30 مرد شامل ہیں، جبکہ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
واقعے کے بعد علاقے سے اٹھنے والے دھوئیں کے بڑے بادل دور دور تک دیکھے گئے۔ TNLA نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کان کنی اور پتھر توڑنے کے کام میں استعمال ہونے والا دھماکا خیز مواد اچانک پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں ایک بہت بڑا گڑھا، تباہ شدہ مکانات، جلے ہوئے درخت اور ملبے کے ڈھیر دیکھے جا سکتے ہیں۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر لوگوں نے اسے فضائی حملہ سمجھا تھا۔
کوئٹہ دھماکا، عالمی برادری کا شدید ردعمل آگیا
عینی شاہدین کے مطابق بچوں سمیت کئی افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ سینکڑوں گھر متاثر ہوئے ہیں۔ ایک متاثرہ خاتون نے بتایا کہ اگر وہ اس وقت اپنے کمرے کے بجائے باورچی خانے میں موجود ہوتیں تو شاید زندہ نہ بچ پاتیں۔
دھماکے کے بعد علاقے میں خوف، افراتفری اور غم کی فضا چھا گئی۔ متاثرین نے سوال اٹھایا ہے کہ دھماکا خیز مواد ذخیرہ کرنے کی تنصیبات کو آبادی کے قریب کیوں قائم کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ میانمار میں سرگرم کئی باغی گروہ اپنی سرگرمیوں کے لیے کان کنی سے حاصل ہونے والی آمدنی پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ حفاظتی انتظامات کی کمی کے باعث ایسے حادثات وقتاً فوقتاً پیش آتے رہتے ہیں۔
