لاہور ہائیکورٹ نے مسافروں کو آف لوڈ کرنے سے متعلق ایف آئی اے کے لیے نئی گائیڈ لائنز جاری کر دیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی بھی شہری کو صرف خدشات یا مبہم وجوہات کی بنیاد پر بیرون ملک سفر سے نہیں روکا جا سکتا۔
جسٹس راحیل کامران نے ایک شہری کی درخواست پر 9 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں نائجیریا جانے سے روکنے کے ایف آئی اے کے اقدام کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔
خیبر پختونخوا جل رہا ہے ، کوئی پوچھنے والا نہیں ، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کسی مسافر کو آف لوڈ کرتے وقت متعلقہ افسران کو تفصیلی اور بامعنی وجوہات تحریری طور پر ریکارڈ کرنا ہوں گی، جبکہ مسافر سے کیے گئے سوالات اور ان کے جوابات بھی باقاعدہ محفوظ کیے جائیں گے۔
فیصلے میں ہدایت کی گئی کہ جہاں ممکن ہو، امیگریشن انٹرویو یا گفتگو کو الیکٹرانک طور پر بھی محفوظ بنایا جائے، جبکہ آف لوڈنگ آرڈر یا متعلقہ پروفارما کی کاپی متاثرہ مسافر کو فراہم کرنا لازم ہو گا۔
عدالت نے واضح کیا کہ درست ویزا، ٹکٹ اور دیگر سفری دستاویزات رکھنے والے شہری کو آف لوڈ کرنا غیر قانونی اقدام ہے۔ فیصلے کے مطابق بیرون ملک سفر ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور ایف آئی اے کے اختیارات لامحدود نہیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کی درخواست منظور کر لی
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ امیگریشن کلیئرنس اور بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے باوجود انہیں آف لوڈ کیا گیا۔ عدالت کے مطابق ایف آئی اے نے شہری کو صرف اس خدشے پر سفر سے روکا کہ شاید وہ دبئی سے واپس نہ آئے۔
