واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امید ہے ایران کی جانب سے سنجیدہ پیشکش سامنے آئے گی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عالمی امور پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پوپ لیو کے ساتھ ان کی ملاقات مثبت رہی۔ جبکہ امریکا کیوبا میں مزید امداد پہنچانے کے لیے تیار ہے، تاہم کیوبا کی جانب سے تعاون نہیں کیا جا رہا۔
انہوں نے کہا کہ نیٹو افواج کی تعیناتی سے متعلق حتمی فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔ جبکہ نیٹو کے اندر اصلاحات کا منصوبہ پہلے سے موجود تھا۔
ایران امریکا تعلقات پر بات کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا کو ایران کی جانب سے تجاویز کا جواب آج مل جانا چاہیے۔ تاہم ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل موصول نہیں ہوا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران کی جانب سے سنجیدہ پیشکش سامنے آئے گی جس سے بامعنی مذاکرات کا آغاز ممکن ہو سکے گا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ “آپریشن فریڈم” اور “آپریشن ایپک فیوری” مختلف نوعیت کے آپریشنز ہیں۔ جبکہ جنگ بندی کے باوجود دفاعی اقدامات کا حق برقرار رہتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکی مفادات پر حملہ کیا جاتا ہے تو اس کا جواب دینا ضروری ہوتا ہے۔ ایران کو آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے یا سمندری راستوں میں بارودی سرنگیں بچھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی قوم دباؤ کے سامنے کبھی سر نہیں جھکاتی، ایرانی وزیر خارجہ
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کی جانب سے امریکی بحریہ کے جہازوں پر حملے کے بعد امریکا نے مؤثر جواب دیا۔ اور مستقبل میں بھی کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
