بانی پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کی درخواست پر انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے فیصلہ سنا دیا ہے اور درخواست کو غیر ضروری اور فضول قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا ہے۔
عدالت نے درخواست گزار وکیل فیصل ملک کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے 10 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں ہدایت کی ہے کہ یہ جرمانہ ڈسٹرکٹ بارراولپنڈی کی ڈسپنسری میں جمع کروایا جائے تاکہ اسے غریب مریضوں کے علاج پرخرچ کیا جا سکے۔
سابق سینیٹر اعجاز چوہدری کی طبیعت بگڑ گئی، جیل سے ہسپتال منتقل
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں کا طریقہ کار اسلام آباد ہائیکورٹ پہلے ہی واضح کر چکی ہے، اس لیے ٹرائل کورٹس اس حوالے سے کوئی متضاد حکم جاری نہیں کرسکتیں۔
عدالت کے مطابق بانی پاکستان تحریک انصاف اس وقت جی ایچ کیو حملہ کیس میں ضمانت پر ہیں اور جوڈیشل تحویل میں نہیں، اس لیے بار بار اسی نوعیت کی درخواستیں دائر کرنا مناسب نہیں۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ماضی میں بھی ایسی دو درخواستیں دائر کی جا چکی ہیں اور متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کے بجائے عدالت کا وقت ضائع کیا جا رہا ہے۔
