فجیرہ، فجیرہ میں ڈرون حملے کے نتیجے میں آئل انڈسٹری زون میں آگ بھڑک اٹھی جبکہ تین افراد زخمی ہو گئے جن کا تعلق بھارت سے بتایا جا رہا ہے۔
زخمیوں کو فوری طور پراسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ فجیرہ پٹرولیم انڈسٹریل سائٹ پر کیا گیا، جس کے بعد صنعتی علاقے میں آگ لگ گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعہ ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں پیش آیا جس نے مقامی انفراسٹرکچر کو متاثر کیا۔
دوسری جانب اسلامی جمہوریہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات کی سرکاری تیل کمپنی کے بحری جہاز پر ڈرون حملوں کے بعد مزید کشیدگی پیدا ہو گئی۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے چار میزائل بھی متحدہ عرب امارات کی طرف فائر کیے گئے، جس سے خطے میں صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مارچ اور اپریل کے دوران خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث فجیرہ میں ڈرون سرگرمیوں اور گرنے والے ملبے کے متعدد واقعات پیش آئے، جنہوں نے شہری اور صنعتی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا۔
حکام کا کہنا ہے کہ مختلف واقعات میں زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد 227 تک پہنچ چکی ہے، جن میں مختلف قومیتوں کے افراد شامل ہیں، ایک واقعے میں یکم اپریل کو ایک بنگلا دیشی تارکِ وطن ملبے کی زد میں آ کر ہلاک بھی ہوا تھا۔
ان واقعات کے دوران ٹیلی کمیونیکیشن نظام اور صنعتی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا، جس کے بعد بندرگاہی اور صنعتی علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
