تہران، اسلامی جمہوریہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے متعلق ایک نیا نقشہ جاری کر دیا ہے، جس میں اہم سمندری حدود اور جغرافیائی حدود کو واضح انداز میں دکھایا گیا ہے۔
جاری کردہ نقشے میں جنوب کی جانب ایران کے کوہِ مبارک اورمتحدہ عرب امارات کے شہرفجیرہ کے جنوب کے درمیان ایک حد بندی ظاہرکی گئی ہے۔
اسی طرح مغربی سمت میں ایران کے جزیرہ قشم کے آخری حصے اور متحدہ عرب امارات کی ریاست ام القوین کے درمیان ایک واضح خط کھینچا گیا ہے، جسے ایران اپنی سمندری حدود کی وضاحت قراردے رہا ہے۔
آبنائے ہرمز کے قریب بھی نہ آنا؛ ایرانی افواج کی امریکی بحریہ کو وارننگ
دوسری جانب ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایک امریکی جہاز پر میزائل حملہ کیا گیا ہے، رپورٹ کے مطابق جہازکو دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ جہازنے اس کی وارننگ کو نظر انداز کیا تھا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ پہلے ہی اعلان کیا جا چکا تھا کہ آبنائے ہرمزسے گزرنے والے کسی بھی جہاز کوایرانی ہدایات پر عمل کرنا ہوگا، بصورت دیگر سخت کارروائی کی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیجی خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اورآبنائے ہرمز جیسے اہم عالمی تجارتی راستے کی صورتحال پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔
