چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ججز کا موقف سنے بغیر پسند و ناپسند کی بنیاد پر تبادلے کرنا عدلیہ پر حملے کے مترادف ہے۔
اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں ججز کے تبادلے اکثریت رائے سے کیے گئے تاہم یہ اقدام آئینی روح کے منافی ہے۔
بیرسٹر گوہر کے ہمراہ علی ظفر بھی موجود تھے انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ججز کے تبادلے آزاد عدلیہ کے تصور کے خلاف ہیں کیونکہ تمام ہائیکورٹس میں ججز کی تعداد پہلے ہی مکمل ہے، اس لیے اس طرح کے فیصلے عدالتی نظام میں تقسیم پیدا کرتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ججز کے تبادلوں سے قبل واضح رولز بنائے جانے چاہیے تھے، اور یہ فیصلہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد جوڈیشل کمیشن کے پہلے اجلاس میں بھی زیر غور آیا تھا۔
انہوں نے زور دیا کہ ججز کا تبادلہ کسی فرد یا پسند و ناپسند کی بنیاد پر نہیں ہو سکتا کیونکہ آئین میں واضح ہے کہ بغیر رضامندی کے تبادلہ محدود حالات میں ہی ممکن ہے۔
بیرسٹر گوہر نے بانی پی ٹی آئی کی صحت پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں رات کے وقت انجکشن کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، لہٰذا ان کے علاج کو سنجیدگی سے لیا جائے اور ذاتی معالجین سے علاج کی اجازت دی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانی اور بشریٰ بی بی کو ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت نہ دینا افسوسناک ہے اور ایسے حالات میں ملک کو نہیں چلایا جا سکتا۔
