اخبار دی نیشنل انٹرسٹ میں شائع ہونے والے مضمون میں پاکستان کو ایک ابھرتی ہوئی سفارتی اور سکیورٹی طاقت کے طور پر پیش کیا گیا ہے
مضمون کے مطابق پاکستان اب مشرق وسطیٰ میں امن کا محور بن چکا ہے، اب پاکستان کا اثر و رسوخ صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہا۔ پاکستان اب مشرقِ وسطیٰ میں بھی ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
مضمون میں کہا گیا ہے کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور اسلام آباد مذاکرات میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔اسلام آباد مذاکرات نے پاکستان کو عالمی تنازعات کے حل کا مرکز بنا دیا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی “ملٹری ڈپلومیسی” کو امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کرانے میں کلیدی اہمیت دی گئی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اسلام آباد مذاکرات سے انکار کی خبروں کی تردید کر دی
پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ جہاں روایتی سفارت کاری ناکام ہو جائے، وہاں پاکستان کی عسکری قیادت اپنی حکمتِ عملی اور نظم و ضبط سے امن کی راہ ہموار کر سکتی ہے
پاکستان اب خوارج اور دہشتگردوں کیخلاف نبرد آزما ہونے کے ساتھ ساتھ غزہ اور دیگر علاقوں میں استحکام کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
مضمون میں پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کے لیے سرگرم کردار ادا کرنے والا ملک بھی قرار دیا گیا ہے، جس میں غزہ جنگ بندی کے نفاذ میں معاونت اور ممکنہ بین الاقوامی امن مشن میں شرکت شامل ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران امریکا مذاکرات بچانے کیلئے غیر معمولی کردار ادا کر رہے ہیں، فنانشل ٹائمز
مضمون کے مطابق پاکستان ایک ایسے سفارتی خلا کو پُر کر رہا ہے جو کمزور روایتی ثالثوں، علاقائی اختلافات اور اقوامِ متحدہ کی محدود صلاحیتوں کے باعث پیدا ہوا ہے۔
یہ مضمون پاکستان کی بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور اسے ایک سنجیدہ، قابلِ اعتماد اور مؤثر ملک کے طور پر پیش کرتا ہے جو عالمی طاقتوں اور علاقائی حریفوں کے درمیان اہم مواقع پر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
