برطانیہ میں 39 سالہ عامر جارڈن نے پھینکی گئی اشیاء کو جمع کر کے مرمت کے بعد دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کا کام شروع کیا، جو اب ایک کامیاب کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عامر جارڈن ماضی میں فائر الارم ٹیکنیشن کے طور پر طویل اوقات کار کے باوجود مالی دباؤ کا شکار تھے، جس کے بعد انہوں نے 2023 میں “ڈمپسٹر ڈائیونگ” کا آغاز کیا۔ ابتدا میں یہ ایک تجربہ تھا، تاہم جلد ہی اس میں موجود مالی امکانات نمایاں ہونے لگے۔
فوٹو سیشن کے دوران شیر کے حملے میں 3 سالہ بچی شدید زخمی
بعد ازاں انہوں نے اپنی اہلیہ روتھ کے ہمراہ اس کام کو منظم انداز دیا اور آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے اپنی سرگرمیوں کو شیئر کرنا شروع کیا، جو اب ان کی مستقل آمدن کا ذریعہ بن چکا ہے۔ وہ محدود وقت میں فرنیچر، الیکٹرانکس اور دیگر اشیاء کو مرمت کر کے فروخت کرتے ہیں اور سالانہ تقریباً 50 ہزار پاؤنڈ تک کما رہے ہیں۔
یہ جوڑا سماجی ذمہ داری کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل رکھتا ہے۔ وہ حاصل ہونے والی اشیاء میں سے خوراک، کپڑے اور دیگر ضروری سامان مستحق افراد اور فلاحی اداروں کو فراہم کرتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں ان کی اس کاوش سے ہزاروں افراد مستفید ہو چکے ہیں۔
عامر جارڈن کے مطابق دکانوں کے باہر پھینکی جانے والی متعدد اشیاء معمولی نقص کے باوجود قابلِ استعمال ہوتی ہیں، جنہیں مناسب مرمت کے ذریعے دوبارہ کارآمد بنایا جا سکتا ہے۔ یہی نقطہ ان کے کاروبار کی بنیاد اور کامیابی کا سبب بنا۔
سنکی باپ کی 8 سالہ بیٹی کو قربان کرنے کی کوشش
ان کا کہنا ہے کہ اس طرزِ زندگی نے نہ صرف انہیں مالی استحکام فراہم کیا بلکہ سوچ کے انداز میں بھی مثبت تبدیلی لائی ہے، جہاں اب وہ وسائل کے مؤثر استعمال، بچت اور خود کفالت کو اپنی زندگی کا اہم حصہ سمجھتے ہیں۔
