ایک ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی برقرار رہی تو ایران اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کرے گا اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
ایرانی خبر ایجنسی فارس سے گفتگو کرتے ہوئے عہدیدار نے کہا کہ امریکی اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اور اگر ناکہ بندی ختم نہ کی گئی تو ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے اوراس کی بندش نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
امریکا ایران مذاکرات کا دوسرا دوراسلام آباد میں اتوارکو ہونے کا امکان، امریکی میڈیا
ماہرین کے مطابق اس بیان کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ عالمی منڈیوں پر بھی اس کے اثرات ظاہر ہونے کا امکان ہے۔
خیال رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ لبنان جنگ بندی کے تناظر میں آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کو جنگ بندی کی مدت تک کے لیے مکمل کھلا قرار دے دیا گیا ہے، آبنائے ہرمز سے جہازوں کا گزر مربوط راستے سے ہوگا۔
