سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتارخارجی دہشتگرد نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا۔
فتنہ الخوارج کے سرغنہ عامر سہیل عرف مولوی حیدر نے اعتراف کیا کہ فتنہ الخوارج میں پاکستان کیخلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کی وجہ سے شامل ہوا ، افغان صوبے پکتیکا میں فتنہ الخوارج کے مرکز میں دہشتگردی کی تربیت حاصل کی۔
خارجی نے انکشاف کیا کہ افغانستان میں فتنہ الخوارج کے مراکز کو افغان طالبان کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے،افغانستان میں موجود داعش،القاعدہ جیسی دہشتگرد تنظیموں کیساتھ بھی ہمارے قریبی روابط تھے۔
فورسز نے افغان سرحد سے فتنۃ الخوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی، 8 خارجی ہلاک
خارجی عامر سہیل نے مزید کہا کہ ہمیں افغانستان اور دیگر غیر ملکی ایجنسیوں بشمول “را” کی جانب سے مالی معاونت فراہم کی جاتی تھی، میری تشکیل میں 20 سے زائد خارجی دہشتگردوں میں افغان شہری بھی شامل تھے ، بنوں، لکی مروت اور میانوالی میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث رہا۔
خارجی نے بتایا کہ مجھے پشاور میں علاج کی غرض سے آتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار کیا، فتنہ الخوارج کا اسلام اور جہاد سے کوئی تعلق نہیں، یہ صرف پیسے کیلئے پاکستان میں دہشتگردی کرتے ہیں۔
شمالی وزیرستان میں2مختلف کارروائیاں،9خارجی ہلاک،4 زخمی حالت میں گرفتار
عالمی ماہرین کے مطابق خارجی دہشتگرد کے انکشافات سے واضح ہے کہ طالبان رجیم کی سرپرستی میں افغانستان دہشتگردوں کی آماجگاہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی پھیلانے کیلئے افغانیوں اور فتنہ الخوارج کے گٹھ جوڑ کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں ، خارجی دہشتگرد کاطالبان رجیم اوربھارتی سرپرستی میں دہشتگردی کا اعتراف پاکستان کےدیرینہ مؤقف کی توثیق ہے۔
