اسلام آباد میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح وفد نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ کا دورہ کیا، جہاں خطے کی صورتحال اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی نشست منعقد ہوئی۔
ترجمان جے یو آئی کے مطابق ملاقات میں امریکا اورایران کے درمیان کشیدگی، ممکنہ جنگ کے اثرات اورجاری سفارتی مذاکرات سمیت اہم امورپرتفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
مولانا فضل الرحمان نے اس موقع پر کہا کہ امریکا ایران مذاکرات کے لیے پاکستان کی میزبانی ایک اعزاز ہے، جبکہ خطے میں جنگ بندی اور مستقل امن ان کی خواہش ہے۔
اس بار جے ڈی وینس کی جگہ ٹرمپ پاکستان آئیں گے، مشاہد حسین سید
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی بلاک کا تصور جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے اور اسلامی ممالک کی خودمختاری کا احترام ناگزیر ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے فلسطین کی آزادی کو مسلم اُمہ کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ کو مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنا وقت کی ضرورت ہے۔
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مولانا کے مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ خطے میں جنگ کے حوالے سے ان کا جاندار موقف ایرانی قوم کی طرف سے قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی عوام، علماء اور مختلف طبقات کا متوازن اور ذمہ دارانہ رویہ قابل قدر ہے۔
ملاقات میں مولانا عبدالغفور حیدری، سینیٹر کامران مرتضیٰ، محمد اسلم غوری اور مولانا اسجد محمود بھی شریک تھے۔
