چار سال قبل ملک میں ہونے والے بڑے بلیک آؤٹ کے بعد بروقت بجلی بحالی میں ناکامی کا معاملہ نیپرا نے نمٹا دیا۔
اتھارٹی نے نیشنل گرڈ کمپنی اور سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کو بجلی بحالی میں غفلت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے دونوں اداروں پراڑھائی، اڑھائی کروڑ روپے جرمانہ عائد کردیا نیپرا نے اس حوالے سے تفصیلی فیصلہ بھی جاری کردیا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 9 جنوری 2021 کو ملک بھر میں 20 گھنٹے طویل بلیک آؤٹ کے باعث پورا ملک اندھیرے میں ڈوبا رہا جبکہ بلیک آؤٹ کے بعد بجلی بحالی کا عمل مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا۔
نیپرا کے مطابق نہ صرف 2021 بلکہ 2022 اور 2023 میں بھی متعدد بار بجلی کے بڑے تعطل کے واقعات پیش آئے جن میں دونوں ادارے بروقت بحالی میں ناکام رہے۔
پشاور ہائیکورٹ کا ڈینگی روک تھام اقدامات پر برہمی، محکمہ صحت سے تفصیلی رپورٹ طلب
اتھارٹی کے مطابق بلیک آؤٹ کے فوری بعد ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، تاہم نیشنل گرڈ کمپنی اور سی پی پی اے دونوں اپنے مؤقف سے نیپرا کو مطمئن کرنے میں ناکام رہیں۔
فیصلہ کے مطابق دونوں اداروں نے اپنی اپنی کوتاہی قبول کرنے کے بجائے ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کی، جس پر اتھارٹی نے سخت نوٹس لیا۔
نیپرا نے دونوں کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ عائد کردہ جرمانہ 15 روز کے اندر جمع کرایا جائے، بصورت دیگر مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

