پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کے خلاف شروع کی گئی ثالثی کارروائی کے سلسلے میں ثالثی عدالت کے حالیہ فیصلے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے نے معاہدے کی عمومی تشریحات سے متعلق 8 اگست 2025 کو جاری کیے گئے عدالتی ایوارڈ کے بعض پہلوؤں پر مفید وضاحت فراہم کی ہے۔
دفتر خارجہ سے جاری ایک بیان کے مطابق پاکستان نے اس فیصلے کے ساتھ جاری کیے گئے عدالتی طریقہ کار سے متعلق احکامات کا بھی نوٹس لیا ہے، جن میں واضح کیا گیا ہے کہ عدالت کارروائی کو مرحلہ وار انداز میں آگے بڑھائے گی اور ساتھ ہی آرٹیکل 9 اور ضمیمہ ایف کے تحت نیوٹرل ایکسپرٹ کے سامنے جاری کارروائیوں کو بھی مدنظر رکھے گی۔
🔊PR No.3️⃣3️⃣3️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣5️⃣
Clarifications Issued by the Court of Arbitration on Pakistan’s Request in the context of the Indus Waters Treaty
🔗⬇️https://t.co/YvjrppCiKN pic.twitter.com/T7qwXHQNUu
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) November 12, 2025
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نیوٹرل ایکسپرٹ کی کارروائیاں بھارت کی درخواست پر شروع کی گئی تھیں اور ان کا اگلا مرحلہ 17 سے 21 نومبر 2025 تک ویانا میں منعقد ہوگا۔ تاہم بھارت نے ان کاروائیوں کی پیروی روک دی ہے، جس کے باوجود پاکستان نیک نیتی کے ساتھ نیوٹرل ایکسپرٹ کی کارروائیوں میں حصہ لے رہا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق نیوٹرل ایکسپرٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ بھارت کی عدم شمولیت کارروائی کے تسلسل میں کسی رکاوٹ کا باعث نہیں بنے گی، اور یہ عمل جاری رہے گا۔

