سربراہ جے یو آئی (ف)مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا ہے کہ اگر صوبوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالا گیا تو بھرپور مزاحمت کریں گے۔
جے یو آئی (ف)کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں27ویں ترمیم سےمتعلق تبادلہ خیال کیاگیا۔
سینیٹ کے کل ہونے والے اجلاس کا 13نکاتی ایجنڈا جاری،ستائیسویں ترمیم شامل نہیں
27ویں ترمیم سے متعلق کوئی مسودہ حکومت کی طرف سے سامنے نہیں آیا،مسودہ سامنے آنے کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ کیاجاسکتاہے،26ویں ترمیم کی کوئی بھی بات 27ویں ترمیم میں شامل ہوئی تو قابل قبول نہیں۔
حکومت26ویں ترمیم میں35شقوں سے دستبردار ہوئی تھی،جے یو آئی چاہتی ہے کہ صوبے پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہوں،صوبوں کے حقوق میں اضافہ ہوناچاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سود کے خاتمے سےمتعلق فی الحال کوئی پیشرفت نظر نہیں آرہی ،مدارس کی رجسٹریشن بھی نہیں کی جارہی ہے،ملک کے تمام بچے ہمارے اپنے ہیں،کسی کو الگ نظر سے نہیں دیکھتے۔
27ویں ترمیم میں 18ویں ترمیم کو رول بیک نہیں کیا جائے گا،طارق فضل چودھری
چاہتےہیں27ویں ترمیم پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیاجائے،پاکستان اور افغانستان پڑوسی مسلم ملک ہیں ،چاہتے ہیں معاملات افہام و تفہیم سے حل ہوں۔صدر مملکت یا بلاول بھٹو سے ملاقات فی الحال شیڈول میں نہیں۔
