یورپی ملک جارجیا میں سیاسی حالات کشیدہ ہوگئے ہیں جہاں بڑے پیمانے پرعوامی احتجاج کے دوران مظاہرین نے صدارتی محل پر دھاوا بول دیا۔
خبر ایجنسی کے مطابق دارالحکومت تبلیسی میں ہونے والے ان مظاہروں کے دوران مظاہرین نے لبرٹی اسکوائر کے قریب لگائی گئی رکاوٹوں کوآگ لگا دی۔
مظاہروں کا آغازحکومت کے اس فیصلے کے خلاف ہوا جس میں آئندہ انتخابات کے بائیکاٹ کی اپوزیشن کی کال کو نظر انداز کیا گیا۔
عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پرنکل آئی اورحکومت مخالف نعرے بازی کی، سکیورٹی فورسزنے مظاہرین کومنتشر کرنے کیلئے آنسوگیس اورلاٹھی چارج کا استعمال کیا تاہم کئی مقامات پرصورتحال قابو سے باہرہو گئی۔
رپورٹس کے مطابق احتجاجی کارکنان حکومت پرالزام عائد کررہے ہیں کہ وہ شفاف انتخابات سے گریزکررہی ہے، جبکہ اپوزیشن نے ان اقدامات کو جمہوریت کیلئے خطرہ قراردیا ہے۔
صدارتی محل کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے اورمزید جھڑپوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
گلوبل صمود فلوٹیلا کے 137 کارکن اسرائیلی قید سے رہائی کے بعد استنبول پہنچ گئے
بین الاقوامی مبصرین نے جارجیا کی بگڑتی ہوئی سیاسی صورتحال پرتشویش کا اظہارکرتے ہوئے فریقین سے پرامن حل تلاش کرنے کی اپیل کی ہے۔
