کھٹمنڈو: نیپال کی سابق چیف جسٹس سوشیلا کرکی نے عبوری حکومت کی سربراہی سنبھالنے پرآمادگی ظاہرکردی ہے۔
ان کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں سیاسی بحران شدت اختیار کرچکا ہے اورعوامی سطح پرعبوری سیٹ اپ کے لیے آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔
مظاہرین نے حالیہ دنوں میں مطالبہ کیا تھا کہ ملک کو بدعنوان سیاسی نظام سے نجات دلانے کے لیے ایک غیر جانبدار اور باوقار شخصیت کو عبوری حکومت کی قیادت سونپی جائے۔
اس ضمن میں سوشیلا کرکی کا نام نمایاں رہا، جواپنے غیرمتنازعہ عدالتی کرداراوردیانتداری کے حوالے سے پہچانی جاتی ہیں۔
سوشیلا کرکی نے ایک بیان میں کہا کہ اگر قوم کو درپیش موجودہ بحران کے حل کیلئے میری ضرورت ہے تو میں عبوری حکومت کی ذمہ داری نبھانے کیلئے تیارہوں، انہوں نے زوردیا کہ انکا مقصد صرف ملک میں شفاف اورآزاد انتخابات کی راہ ہموارکرنا ہے۔
سیاسی مبصرین سوشیلا کرکی کے فیصلے کو نیپال میں ایک نئے سیاسی باب کی شروعات قراردے رہے ہیں۔
چند ہفتوں کے دوران اسرائیل کے چھ اسلامی ممالک پر حملے
عوامی سطح پرانکی حمایت میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اورکئی سماجی حلقے انکی قیادت کو بحران سے نکلنے کا ایک سنہری موقع قراردے رہے ہیں۔
