پنجاب پولیس کے 45 افسران منشیات اسمگلنگ میں ملوث نکلے، انکوائری جاری

پنجاب پولیس

پنجاب پولیس کے 45 افسران اور اہلکار مبینہ طور پر منشیات اسمگلنگ کی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے، انکوائری کا آغاز کردیا گیا۔

آئی جی پنجاب کے مطابق اسمگلنگ میں ملوث افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ ایڈیشنل آئی جی آپریشنز پنجاب نے سی پی او راولپنڈی و گوجرانولہ سمیت اضلاع کے ڈی پی اوز کو مراسلے کے ذریعے احکامات دیے ہیں۔

اسمگلنگ میں ملوث افسران کی فہرست میں کانسٹیبل سے لیکر اے ایس آئی، سب انسپکٹر اور انسپکٹر سطح تک کے افسران و اہلکاروں کے نام شامل ہیں جبکہ سابق ایس ایچ اوز اور چوکی انچارج کے نام بھی شامل ہیں۔

پنجاب پولیس کے سفارشی ڈی پی اوز کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ

فہرست میں راولپنڈی کے دو سب انسپکٹرز، اٹک کے ایک انسپکٹر، 4 سب انسپکٹرز، ایک اے ایس آئی اور ایک کانسٹبل کا نام بھی شامل ہے۔ لاہور، گوجرانولہ، حافظ آباد، میاں چنوں، پاک پتن، مظفر گڑھ، بہاولپور اور رحیم یار خان کے بھی پولیس افسران و اہلکار شامل ہیں۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اسمگلنگ کی سرگرمیوں میں ملوث جن کی فہرست مہیا کی جا رہی ہے، ان افسران کے خلاف ایکشن لیا جائے۔

سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی کے مطابق فہرست میں شامل راولپنڈی پولیس کے دو سب انسپکٹرز کے حوالے سے ایس ایس پی آپریشن حافظ کامران اصغر کو انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا ہے۔


ٹیگز :
متعلقہ خبریں