بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن زیرِ غور نہیں، عزم استحکام کو غلط سمجھا جارہا ہے، وزیراعظم

عزم استحکام

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عزم استحکام کو غلط سمجھا جارہا ہے، غلط فہمیوں اور غیر ضروری بحث کو ختم کرنا چاہیے۔

وزیراعظم ہاؤس کے اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ حال ہی میں جس وژن عزم استحکام کا اعلان کیا گیا، اسے غلط سمجھا جا رہا ہے۔ اس کا موازنہ ضرب عضب اور راہ نجات جیسے پچھلے آپریشنز سے کیا جا رہا ہے۔

پنجاب میں ایسی کوئی صورتحال نہیں کہ آپریشن کیا جائے، رانا ثناء اللہ

شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پچھلے آپریشن ایسے مقامات پر کیے گئے جو نوگو علاقے بن چکے تھے، اس وقت ملک میں ایسے کوئی نو گو ایریاز نہیں ہیں۔ وژن عزم استحکام، پاکستان میں پائیدار امن و استحکام کے لیے ایک کثیر جہتی وژن ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیونکہ دہشت گردوں کو فیصلہ کُن طور پر شکست دی جا چکی ہے۔ فی الحال بڑے پیمانے پر کسی ایسے فوجی آپریشن پر غور نہیں کیا جا رہا جس سے آبادی کی نقل مکانی کی ضرورت پڑے۔

وزیراعظم نے کہا کہ عزمِ استحکام کا مقصد پہلے سے جاری انٹیلیجنس کی بنیاد پر مسلح کارروائیوں کو مزید متحرک کرنا ہے۔ دہشت گردوں کی باقیات کی ناپاک موجودگی، جرائم و دہشت گرد گٹھ جوڑ کی وجہ سے ان کی سہولت کاری اور ملک میں پرتشدد انتہا پسندی کو فیصلہ کن طور پر جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔

آپریشن عزم استحکام درحقیقت آپریشن عدم استحکام ثابت ہوگا، مولانا فضل الرحمان

انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی اتفاقِ رائے سے شروع کیے گئے اِس مثبت اقدام کی پذیرائی کرنی چاہیے اور اس موضوع پر غلط فہمیوں اور غیر ضروری بحث کو ختم کرنا چاہیے۔


متعلقہ خبریں