پنجاب کا ٹیکس فری بجٹ پیش ،تنخواہ میں 25 فیصد تک اضافہ ،پنشن 15 فیصد بڑھا دی گئی

پنجاب

پنجاب کے وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے آئندہ مالی سال کیلئے ٹیکس فری بجٹ پیش کردیا۔

پنجاب اسمبلی میں بجٹ تقریرکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب کا بجٹ پیش کرنا اعزاز کی بات ہے، نوازشریف اور شہبازشریف کی قیادت میں پنجاب کی ترقی کا سفر دوبارہ شروع کیا،وزیراعلیٰ مریم نواز نے مختصر وقت میں بتایا ہے کہ عوام کی خدمت کیسے کرتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز منظوری دینے کے بعد بجٹ دستاویزات پر دستخط کر رہی ہیں

شہبازاسپیڈ اب ڈیجٹیل پنجاب اسپیڈ بن چکا ہے،وزیراعلیٰ پنجاب نے روٹی اور دیگر اشیائے خورونوش کو سستا کیا،مریم نواز،نوازشریف کی کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہیں،پنجاب کی ترقی کاسفر شروع ہوچکا ہے۔

مریم نواز بطور وزیراعلیٰ اب پنجاب کی طاقت بن گئی ہیں،مہنگائی میں کافی حد تک کمی ہوچکی ہے،آئندہ مالی سال کا بجٹ ٹیکس فری ہو گا،اس بجٹ میں عوام پر بوجھ نہیں ڈالا جا رہا،مہنگائی کی شرح 11.8 ریکارڈ کی گئی ہے۔

بجٹ میں 1800 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز عائد

مریم نواز نے 100دنوں کے قلیل وقت میں انقلابی اقدامات کیے،3.2ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات زر اوورسیز پاکستانی بھجوارہے ہیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز نے مہنگائی کے حوالے سے خصوصی توجہ مرکوز رکھی،ایک بار پھر کاروباردوست ماحول پیدا ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ مالی سال 25-2024بجٹ کا مجموعی تخمینہ 5446 ارب لگایا گیا ہے،بجٹ میں صوبائی محصولات میں اضافہ ،حکومتی حجم اور اخراجات میں کمی لارہے ہیں۔

مختلف منصوبوں کیلئے مختص رقوم

صوبائی وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں اعلان کیا کہ 296ارب کی لاگت سے 2380 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر و بحالی ہو گی،کھیلوں کی سہولت کیلئے 6 ارب 50 کروڑ کا منصوبہ شروع کیا جا رہا،530ارب روپے کی ڈیڈاسکیموں کو بحال کرنےکافیصلہ کیا گیا ہے۔سالانہ ڈویلپمنٹ پلان میں 77 نئے میگا پراجیکٹ شامل ہونگے،سوشل سیکٹرز کیلئے 280 ارب 65 کروڑ کی رقم مختص کی گئی ہے ،جاری اسکیموں میں 95 ارب کی فارن فنڈڈ اسکیمیں شامل ہیں۔واٹر سپلائی اینڈ سینی ٹیشن کیلئے 8 ارب 9 کروڑ 90 لاکھ روپے مختص ہونگے۔7ارب روپے کی لاگت سے کھیلتا پنجاب پروگرام شروع کیاجائے گا،857ارب 40 کروڑ روپے مقامی حکومتوں کیلئے مختص کئے گئے،ترقیاتی بجٹ کی مد میں 842ارب روپے رکھے گئے،2ارب لاگت سے اسپیشل افراد کیلئے پروگرام شروع کررہے ہیں۔نگہبان کارڈ کیلئے 2ارب روپے رکھے ہیں،100یونٹ تک بجلی استعمال کرنےوالوں کو مفت سولرسسٹم فراہم کیا جائیگا۔اپنا گھر اپنی چھت پروگرام کیلئے 10 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔

شعبہ آئی ٹی کیلئے اقدامات

مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا کہ ڈیجیٹل پنجاب کا خواب تیزی سے شرمندہ تعبیر ہو رہا ہے ،10ارب روپے کی لاگت سے پی ایم لیپ ٹاپ اسکیم دوبارہ شروع کی جارہی ہے۔پاکستان میں پہلے آئی ٹی سٹی کی بنیاد لاہو میں رکھی گئی ہے۔

شعبہ تعلیم کیلئے اقدامات

حکومت پنجاب کی جانب سے شعبہ تعلیم کے لئے چھ سو انہتر ارب چوہتر کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا۔ رواں سال کی نسبت اگلے مالی سال میں شعبہ تعلیم میں غیر ترقیاتی بجٹ کی مد میں بارہ فیصد اضافہ کے ساتھ چھ سو چار ارب چوبیس کروڑ روپے مختص کئے گئے،رواں مالی سال کی نسبت ترقیاتی اخراجات میں بھی چودہ فیصد اضافہ کے ساتھ پینسٹھ ارب پچاس کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ اسکول ایجوکیشن کے شعبے کیلئے آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کی مد میں بیالیس ارب پچاس کروڑ روپے کی رقم صرف کی جائے گی۔ آئندہ مالی سال میں پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کیلئے چھبیس ارب پچیس کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جو کہ رواں مالی سال کے مقابلے سات فیصد زائد ہیں۔آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ہائیر ایجوکیشن کیلئے مجموعی طور پر سترہ ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کی تجویز دی گئی ہے۔ اسپیشل ایجوکیشن کیلئے مجموعی طور پر دو ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ، پنجاب ایجوکیشن انڈوومنٹ فنڈ کے لئے دس کروڑ روپے مختص کئے گئے۔آئندہ پانچ سالوں میں پنجاب کے تمام اضلاع میں دانش سکول کے قیام کے منصوبہ کے لئے بجٹ میں دو ارب پچاس کروڑ روپے کی رقم رکھی گئی ہے جبکہ محکمہ لٹریسی و غیر رسمی تعلیم کیلئے چار ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کی تجویز دی گئی ہے، بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کیلئے ایک ارب روپے کی لاگت سے چیف منسٹر پنجاب سکولز میلز پروگرام شروع کیا جائے گا۔

شعبہ صحت کیلئے اقدامات

صوبائی بجٹ میں  شعبہ صحت کیلئے مجموعی طور پر 539 ارب 15 کروڑ کی رقم مختص کی گئی ہے ،اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئرکیلئے 76 ارب 61 کروڑ 50 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔ پنجاب میں موبائل فیلڈ اسپتالوں کاآغاز کردیا گیا ہے۔

کسانوں کیلئے اہم اعلانات

صوبائی وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریرمیں بتایا کہ تاریخ کا سب سے بڑا کسان دوست پیکج متعارف کرارہے ہیں ،پنجاب بھر میں 7 ہزار ٹیوب ویلز کو سولر پر منتقل کیا جا رہا،ایک ارب 25 کروڑ کی لاگت سے ماڈل ایگریکلچر مالز کا قیام ہو گا ، کسانوں کو 30 ارب کی لاگت سے بلاسود ٹریکٹرز فراہم کئے جائیں گے۔کسانوں کو ڈیری فارمنگ کیلئے آسان اقساط پر قرض دے رہے ہیں،5لاکھ کسانوں کو 75ارب مالیت کے بلاسود قرضے دیں گے۔

تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ

وزیرخزانہ پنجاب نے اپنی بجٹ تقریر میں اعلان کیا کہ گریڈ 1سے گریڈ 16 کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں25فیصداضافے کی تجویزہے،گریڈ 17سےگریڈ22کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 20فیصد اضافے کی تجویز ہے۔بجٹ میں پنشنز میں 15فیصد اضافے کی تجویز رکھی گئی،کم سے کم ماہانہ تنخواہ  37ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے۔

جنوبی پنجاب کیلئے اقدامات

آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں جنوبی پنجاب کی آبادی کے لئے سیف سٹیز پراجیکٹ، شاہراہوں کی مرمت و بحالی، بنیادی مراکز صحت کی اپ گریڈیشن اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ سمیت دیگر منصوبوں کے لئے بجٹ مختص کیا گیا ہے،جنوبی پنجاب کی ترقیاتی سکیموں کے لئے دس ارب روپے رکھے گئے ہیں،جنوبی پنجاب میں پانچ سو اکاسی بنیادی مراکز صحت کی ری ویمپنگ کے لئے چار ارب روپے، جنوبی پنجاب نان فارمل ایجوکیشن کے لئے ایک ارب بتیس کروڑ روپے رکھے گئے ہیں،جنوبی پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ اہداف کی مد میں ساڑھے تین ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ ساؤتھ پنجاب کی دیہی خواتین کو لائیو سٹاک دئیے جانے کے منصوبے کے لئے ایک ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔سات ارب روپے کی لاگت سے ملتان سیف سٹی پروگرام کی تکمیل کی جائے گی۔ ایک ارب روپے کی لاگت سے کینسر سنٹر نشتر ہسپتال ملتان کی تعمیر ہو گی۔ جنوبی پنجاب میں چھ سو چوراسی کلو میٹر سڑکوں کی تعمیر و بحالی کی جائے گی۔ اکتیس ارب اڑتالیس کروڑ روپے کی لاگت سے مظفر گڑھ، علی پور پنجند، ترینڈہ محمد پناہ سڑک کی تعمیر و بحالی کی جائے گی،تیرہ ارب روپے کی لاگت سے ملتان وہاڑی روڈ،بارہ ارب روپے کی لاگت سے بورے والا وہاڑی روڈ کی تعمیر و بحالی کی جائے گی، آٹھ ارب ساٹھ کروڑ روپے کی لاگت سے ملتان اور بہاولپور میں ماحول دوست بسوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی،مختلف محکموں کے اخراجات کی مد میں جنوبی پنجاب کو چار ارب پینسٹھ کروڑ روپے دئیے جائیں گے۔

اپوزیشن کا احتجاج

اپوزیشن نے بجٹ پیش کرنے کے موقع پر شدید احتجاج کیا، اپوزیشن لیڈر کی قیادت میں اپوزیشن ارکان سپیکر ڈائس کے سامنے آگئے، اپوزیشن نے بجٹ دستاویزات کو پھاڑ کر ایوان میں لہرا دیا۔

وزیرخزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان کی بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن نے پنجاب حکومت کے خلاف نعرے بازی کی، اپوزیشن نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی موجودگی میں ایوان میں ہنگامہ آرائی بھی کی۔

ہنگامہ آرائی کے دوران حکومتی ارکان میں سے بعض افراد نے اپوزیشن ارکان کو سمجھا کر بٹھانے کی کوشش کی تاہم دونوں طرف سے تلخ کلامی ہوگئی جس کے باعث ارکان گھتم گتھا ہوگئے۔

معاملہ حد سے بڑھا تو پنجاب اسمبلی کی سکیورٹی کو ایوان میں طلب کرلیاگیا،سیکورٹی اہلکاروں نے اراکین اسمبلی کے درمیان بیچ بچائو کرواکے معاملہ رفع دفع کیا۔


ٹیگز :
متعلقہ خبریں