اسلامی دنیا کی تشدد روکنے کی اپیل، امریکا سمیت مغربی ممالک کا اسرائیل کی حمایت کا اعلان


فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کی اسرائیل پر گزشتہ روز کیے گئے تباہ کُن زمینی، فضائی حملوں اور حماس کے فوجی کمانڈر کی طرف سے ‘آپریشن الاقصیٰ فلڈ’ کے آغاز کے اعلان کے بعد عالمی رہنماؤں کا رد عمل بھی سامنے آگیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق حماس نے ہفتے کے روز اسرائیل پر سب سے بڑا حملہ کیا جو مئی 2021 کے بعد سب سے خونریز کارروائی تھی۔ ہفتے کی صبح حماس کے فضائی، زمینی اور سمندری حملے کے بعد اسرائیل کی طرف سے بھی جوابی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔

اسرائیل پر حماس کے حملے کے نتیجے میں اب تک 300 اسرائیلی ہلاک جبکہ 1500 اسرائیلی زخمی ہیں جن میں درجنوں کو یرغمال بنالیا گیا ہے۔ اسرائیل کی جوابی کارروائی میں 232 فلسطینی شہید اور ہزاروں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم کی بتائی گئی تعداد سے کہیں زیادہ فوجی قید ہیں ، حماس

اس حوالے سے مختلف عالمی رہنماؤں نے دونوں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔

پاکستان

پاکستان کے نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تشدد پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ مشرق وسطیٰ میں بگڑتی صورتحال پر دل افسردہ ہے۔

انوار الحق کا کہنا تھا مسئلہ فلسطین کا فوری حل ناگزیر ہے، پاکستان شہریوں کے تحفظ اور تحمل پر زور دیتا ہے۔ مشرقی وسطیٰ میں پائیدار امن دو ریاستی حل میں مضمر ہے۔

امریکا

مشرقی وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال سے متعلق امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کی حمایت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہے گا۔اسرائیل کی سلامتی کیلئے ہماری انتظامیہ کی حمایت مضبوط اور غیر متزلزل ہے۔

اس حوالے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا بیان جاری کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ہم اسرائیل کی حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان حملوں میں اسرائیلی جانوں کے ضیاع پر اظہار تعزیت کرتے ہیں۔

ایران

ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ایک مشیر یحییٰ رحیم صفوی نے حماس کے حملوں پر فلسطینی جنگجوؤں کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ ‘ہم فلسطین اور بیت المقدس کی آزادی تک فلسطینی جنگجوؤں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

حماس کے اسرائیل پر کیے گئے زمینی اور فضائی حملوں پر ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے پارلیمنٹ کے ارکان کو اپنی نشستوں سے اٹھ کر ‘اسرائیل مردہ باد’ کے نعرے لگاتے ہوئے دکھایا۔

فلسطین اور اسرائیل میں نئی جنگ، حماس کے زمینی اور فضائی حملے، 250 صیہونی ہلاک، درجنوں یرغمال

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنانی نے اس حوالے سے کہا کہ ‘اس آپریشن میں سرپرائز کا عنصر اور دیگر مشترکہ طریقے استعمال کیے گئے جو غاصبوں کے خلاف فلسطینی عوام کے اعتماد کو ظاہر کرتے ہیں۔

برطانیہ

برطانوی وزیر خارجہ کی طرف سے بھی اسرائیل کے حق میں بیان دیتے ہوئے کہا گیا کہ ‘برطانیہ واضح طور پر اسرائیلی شہریوں پر حماس کے ہولناک حملوں کی مذمت کرتا ہے اور ہمیشہ اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کرے گا۔

سعودی عرب

سعودی وزارت خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں جاری پُرتشدد کارروائیاں فوری روکنے کا مطالبہ کیا۔ دوسری طرف اماراتی وزارت خارجہ نے اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ اور سنگین نتائج سے بچنے کیلئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے۔

اسرائیلی میزائل حملے کی لائیو کوریج، خاتون رپورٹر کی چیخ نکل گئی

عرب لیگ کے سربراہ احمد ابو الغیط نے غزہ میں جاری کارروائیوں پر دونوں فریقین کے درمیان مسلح تصادم کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔

کویت

کویت کی طرف سے بھی اسرائیل پر حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

یمن نے بھی اسرائیل کی کمزوری اور نامردی کو ظاہر کر دیا ہے اور اس آپریشن کو وقار، فخر اور دفاع کی جنگ کا نام دیا۔

فلسطین

فلسطینی صدر محمود عباس نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ ‘فلسطینی عوام کو آبادکاروں اور قابض فوجیوں کی دہشت کے خلاف اپنا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے۔’

فرانس، کینیڈا، یوکرین

فرانسیسی صدر ایمینوئل میکرون نے کہا کہ ‘میں اسرائیلی کے خلاف حملوں کی شدید مذمت کرتا ہوں، میں متاثرین، ان کے اہل خانہ اور ان کے قریبی لوگوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں۔

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹس ٹروڈو نے اپنے پیغام میں کہا کہ ‘کینیڈا اسرائیل کے خلاف موجودہ دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ تشدد کی یہ کارروائیاں مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں۔

حزب اللہ

اسرائیل کا مخالف لبنانی گروپ حزب اللہ کا اس حوالے سے بیان جاری کرتے ہوئے کہنا ہے کہ ‘ہم فلسطینی مزاحمتی قیادت کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہیں اور ان واقعات کو اسرائیل کے مسلسل قبضے کے خلاف فیصلہ کن ردعمل قرار دیتے ہیں۔’


متعلقہ خبریں