لاہور میں صحافیوں کے لیے خصوصی ٹریننگ کا اہتمام


لاہور میں صحافیوں کے لیے خصوصی ٹریننگ کا اہتمام کیا گیا جس میں صحافیوں کو بچوں کی جبری مشقت ، قانون سازی اور بچوں کے حقوق اور امور سے متعلق مختلف موضوعات پر ٹریننگ دی گئی۔

لاہور کے نجی ہوٹل میں منعقدہ تین روزہ تربیتی پروگرام میں سندھ اور پنجاب کے صحافی شریک ہوئے، تقریب میں بچوں سے متعلق قانون سازی، انکے حقوق سمیت ڈیجیٹیل سیکورٹی بارے صحافیوں کو ٹریننگ دی گئی۔

ورکشاپ کے ٹرینرز سینئر صحافی شیراز حسنات، عون ساہی اور مقداد نقوی کی جانب سے صحافیوں کو ٹریننگ کے علاوہ مختلف واقعات اور تجربات سے بھی آگاہ کیا گیا۔

گروپ ڈویلپمنٹ پاکستان کے زیر اہتمام اور انٹرنشینل لیبر آرگنائزیشن کے تعاون سے منعقدہ تین روزہ ورکشاپ کا مقصد بہتر تحقیق،بامقصد حساس و معیاری رپورٹنگ جبکہ میڈیا اور اس سے متعلقہ قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے صحافیوں کی اخلاقی وفنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا تھا۔

تین روزہ ورکشاپ میں بچوں سے مزدوری کے متعلقہ قوانین اور مزدوری کی روک تھام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ جبکہ صحافیوں اور ماہرین کی صلاحیتوں کی تعمیر متعلقہ ہنر اور معلومات کے مطابق بچوں کی مزدوری پر صلاحیت سازی کے اس پروگرام کا مقصدمتعلقہ مہارتوں کے ساتھ صحافی، مواصلات کے ماہرین اور چائلڈ لیبر کے بارے میں اعلیٰ میعار پر مبنی، حساس انداز میں ثبوتوں کے ساتھ رپورٹ کرنا تھا۔

ورکشاپ میں صحافیوں کو بتایا گیا کہ اقوام متحدہ کے عالمی معاہدہ برائے انسانی حقوق کے مطابق اٹھارہ سال سے کم عمر ہر انسان بچہ کہلاتاہے۔ ورکشاپ میں آ ئین پاکستان کی نظر میں بچے کی تعریف کی گئی کہ پاکستان کا دستور ”بچہ“ کی تعریف نہیں کرتا۔لیکن کچھ خصوصی شقیں بچے کے حوالے سے موجود ہیں جن میں عمر کا تذکرہ بھی ہے۔ مثال کے طور پر آ رٹیکل 11بچوں سے مزدوری کم از کم عمر 14سال مقرر کرتے ہوئے ان کو خطرناک شعبہ جات جن کی تعداد کم و بیش 35سے زیادہ ہے، میں کام کرنے کی ممانعت کرتا ہے۔ جبکہ آرٹیکل 25اے 16سال سے کم عمر بچوں کو بنیادی لازمی تعلیم کا حق فراہم کرتا ہے۔

الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے متعلقہ صحافیوں کی وقتافوقتا ٹرینگ بہت سے ایسے پہلو اجاگر کر دیتی ہے جو معلوم تو کم و بیش سب کو ہوتے ہیں مگر ان پر تفصیلی نہ تو لکھا جا سکتا ہے اور نہ ہی فلمایا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ تربیتی سیشن صحافیوں کے لئے بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں۔


متعلقہ خبریں